آئیڈل ازم کے اصول و ضوابط

آئیڈل ازم کے اصول و ضوابط

﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ۠۝۹۰﴾ (الانعام:90)
گذشتہ خطبے میں بات ہو رہی تھی آئیڈیل ازم کی کہ دنیا میں انسان کو زندگی گزار نے کے لئے کسی نہ کسی آئیڈیل اور نمونے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ انسان کی فطری ضرورت ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی نہ کسی کو اپنا آئیڈیل ضرور
بناتا ہے۔
کسی آئیڈیل کا ہونا اللہ تعالی نے انسان کی ضرورت ضرور بتایا ہے، مگر اللہ نے اسے اس کی خواہش پر نہیں چھوڑا کہ جس کو جی چاہے، جس طرح چاہے اپنا آئیڈیل بنائے، بلکہ اس کی کچھ حدود و قیود مقرر فرمائی ہیں، شروط و آداب بتلائے ہیں، ان کی روشنی میں کسی کو اپنا آئیڈیل بنایا جاسکتا ہے، اور آئیڈیل شخصیات بنیادی طور پر دو طرح کی ہیں: ایک وہ جو مطلق آئیڈیل ہیں یعنی جو اپنے ہر قول اور فعل میں آئیڈیل ہیں اور وہ میں انبیاء علیہم السلام ۔
اور دوسرے وہ جو مشروط آئیڈیل ہیں، یعنی جب تک ان کا قول و فعل کتاب وسنت کے مطابق ہوگا تب تک وہ آئیڈیل ہوں گے، اور پھر ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں قرآن وحدیث نے بطور خاص آئیڈیل قرار دیا ہے، بلکہ انہیں آئیڈیل بنانے کو صحت ایمان کی علامت قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدُوْا﴾ (البقرة:137)
’’پھر اگر وہ اس طرح ایمان لائین جس طرح تم لائے ہو (یعنی صحابہ کرام) تو وہ ہدایت پر ہیں۔‘‘
اسی طرح کچھ دیگر قسم کے آئیڈیل بھی ہیں، جیسا کہ جزوی آئیڈیل جو کہ کسی مخصوص صفت اور خوبی میں آئیڈیل ہوں، یا کچھ ایسے دنیوی معاملات میں آئیڈیل ہوں جو قرآن و حدیث سے ٹکراتے نہ ہوں ۔
تا ہم حقیقی آئیڈیل وہ ہے جو آخرت کے حوالے سے آئیڈیل ہو اور اس کے لئے کتاب وسنت کی موافقت اور مطابقت شرط ہے۔ اس کی تفصیل گذشتہ خطبات میں بیان ہو چکی ہے، آج ہم آئیڈیل ازم کا اک دوسرا پہلو ذکر کرنا چاہیں گے کہ جس طرح کسی کو آئیڈیل بنانا ایک حقیقت ہے اور بہت حساس معاملہ ہے اس میں آدمی کو بہت چھان پھٹک اور احتیاط کی ضرورت ہے، اسی طرح خود آئیڈیل بنا بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے اور کسی کو آئیڈیل بنانے سے زیادہ حساس معاملہ خود کسی کا آئیڈیل بنتا ہے۔
کسی کو اپنا آئیڈیل بنانے سے پہلے تو آدمی سوچ و بچار کرتا ہے، مشورہ کرتا ہے، چھان بین کرتا ہے۔ مگر خود آئیڈیل بنتے ہوئے آدمی عموماً بے ساختہ اور غیر شعوری طور پر دوسروں کے لئے آئیڈیل بن رہا ہوتا ہے، اور یہ نہایت حساس معاملہ اس لئے بھی ہے کہ لوگوں کی غالب اکثریت اس حقیقت سے واقف ہی نہیں ہے بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ انسان غیر شعوری طور پر دوسروں کے لئے آئیڈیل بن رہا ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر اسے معلوم بھی نہیں ہوتا اور اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا مگر وہ دوسروں کے لئے آئیڈیل بن رہا ہوتا ہے۔
آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ اگر صورت حال یہ ہو کہ آدمی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو کہ وہ کسی کے لئے آئیڈیل بن رہا ہے تو پھر اس میں حساسیت والی کون سی بات ہے۔ جبکہ اصل حساسیت والی بات ہی یہی ہے کہ اسے معلوم بھی نہیں ہوتا مگر وہ اللہ کے ہاں اس کا جوابد وین رہا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی ایسے عمل کا کیونکر جوابدہ ہو سکتا ہے جو اس سے بے ساختہ اور لا ابالی پن میں سرزد ہوتے ہیں؟
قرآن وحدیث سے اس کا جواب جاننے سے پہلے، اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آدمی انجانے میں اور غیر شعوری طور پر کسی طرح کسی کا آئیڈیل بن جاتا ہے۔ اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں ہوگا کہ انسان دوسروں سے متاثر ہوتا ہے، یہ انسان کی ضرورت بھی ہے اور اس کے فوائد بھی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں اگر اس تاثر کو کھلا چھوڑ دیا جائے اور اس کے کچھ حدود و قیود متعین نہ ہوں بلکہ صرف جذبات ہی جذبات ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ انسان تلاوت سے متاثر ہوتا ہے اور ایسا متاثر ہوتا ہے کہ اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جسم میں کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اگر وہ اس میں غور و تدبر سے کام لے رہا ہو تو ۔ اسی طرح انسان گانے اور موسیقی سے بھی متاثر ہوتا ہے اور ایسا متاثر ہوتا ہے کہ بسا اوقات وہ جھومنے لگتا ہے اور اس پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اسی طرح انسان دوسروں کی خَلقی (خِلقی) اور خُلُقی صفات اور خوبیوں سے بھی متاثر ہوتا ہے، دوسروں کی صلاحیتوں سے متاثر ہوتا ہے، شعبدہ بازی سے متاثر ہوتا ہے، کسی کی ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت سے متاثر ہوتا ہے، جسمانی ساخت اور تن سازی سے متاثر ہوتا ہے، چرب زبانی سے متاثر ہوتا ہے، مال و دولت سے متاثر ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر اس تاثر کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے، مثال کے طور پر چند ایک کا ذکر کرتے ہیں، ایک جگہ منافقین کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ؗ اَنّٰی یُؤْفَكُوْنَ۝۴﴾ (المنافقون: ٤)
’’جب آپ انہیں دیکھیں تو اُن کے جسم آپ کو بڑے شاندار اور خوشنما معلوم ہوں اور جب وہ باتیں کریں تو آپ سنتے رہ جائیں، یعنی ان کی گفتگو میں ایسی فصاحت و بلاغت اور لب ولہجہ ایسا پرکشش کہ آدمی سنتا رہ جائے ۔‘‘
مال و دولت کی کشش انسان کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے اور مسحور کر دیتی ہے، اس حقیقت کو قرآن و حدیث میں مختلف مقامات پر اور مختلف انداز میں بیان کیا گیا ایک جگہ یوں بیان فرمایا:
﴿وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ۝۳۳ وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِـُٔوْنَۙ۝۳۴ وَ زُخْرُفًا ؕ ﴾(الزخرف:33۔34)
’’اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جا ئیں گے تو اللہ رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں اور اُن کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے ۔‘‘
یہ دولت کے تاثر اور کشش کی حقیقت ہے کہ کافروں کے گھر اگر سونے چاندی کے بنا دیئے جاتے تو اہل ایمان میں سے شاید ہی کوئی اس کے فتنے اور آزمائش سے نیا پاتا۔ اور ایک جگہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے شان و شوکت ٹھاٹھ باٹھ اور مال و دولت کی کشش کا عملی نمونہ بیان کرتے ہوئے قارون کی شان و شوکت کا ذکر فرمایا:
﴿فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ۝۷۹﴾ ( القصص:79)
’’ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ باٹھ میں نکلا، جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے یہ تو بڑے نصیب والا ہے۔‘‘
اسی طرح انسان دنیا کی دوسری چیزوں سے اور انسانوں سے متاثر ہوتا ہے، اور دنیا میں جو سب سے موثر کن اور باعث فتنه و آزمائش چیز جو کسی مرد کے لئے ہو سکتی ہے وہ۔ آپ ﷺنے فرمایا:
((ما تركت بعدي فتنة أضر عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ)) (صحيح البخاري:5096- مسلم:2740)
’’میرے بعد آنے والے فتنوں اور آزمائشوں میں سے مردوں کے لئے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نقصان دہ نہ ہوگا۔‘‘
بات ہورہی تھی آئیڈیل بننے کی، کہ آدمی اکثر و بیشتر غیر شعوری طور پر لوگوں کا آئیڈیل بن رہا ہوتا ہے اور وہ اس کے لئے جوابدہ بھی ہے، اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم نے سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی کہ آدمی دوسروں سے متاثر ہوتا ہے اور شدت تاثر کا یہ عالم ہے کہ آدمی جس چیز سے متاثر ہوتا ہے بسا اوقات وہاں متاع دل لٹا بیٹھتا ہے۔
جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
تو آئیڈیل بننے کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے شدت تاثر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، بسا اوقات آدمی کسی چیز سے اتنا متاثر ہوتا ہے کہ اس کے حصول کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، جان کی ، مال کی ، عزت کی اور ہر وہ چیز جو اس کے دائرہ اختیار میں ہوتی ہے اسے قربان کر دینے کو تیار ہوتا ہے۔
شرمندگی، ملامت، تو ہین، خفت اور ذلت ہر اذیت سہنے کو نہ صرف یہ کہ تیار ہو جاتا ہے بلکہ اسے اپنے لئے شرف سمجھنے لگتا ہے، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
وَهَانَ عَلَى اللَّوْمُ فِي جَنْبِ حُبِّهَا
وَقَوْلُ الأَعادِي إِنَّهُ لَخَلِيعُ
’’اس کی محبت میں علامت اب میرے لئے نیچ اور بے معنی ہو کہ رہ گئی ہے، دشمنوں کا یہ کہنا کہ دو تو بڑا بے شرم ہے میرے لیے ایک بہت ہی ہلکی سی بات ہے۔‘‘
أَصَمُّ إِذَا نُودِيتُ بِاسْمِي وَإِنَّنِي
إِذَا قِيلَ لِي يَا عَبْدَهَا لَسَمِيعُ
’’اس کی محبت میں مجھے کوئی ملامت کرے یہ تو معمولی سی بات ہے، میں تو، کوئی اگر مجھے میرے نام سے پکارے تو بہرا ہو جاتا ہوں اور جب کوئی مجھے اس کا غلام کہہ کر پکارے تو میں خوب سنتا ہوں ۔‘‘
غلامی شدت تعلق کی انتہا ہے اور ایک بچے مسلمان سے مطلوب ہے کہ اس کا اپنے رب سے ایسا تعلق ہو کہ وہ اس کے ساتھ تعلق میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کرے، بلکہ اس کا عبد اور غلام ہونے پر فخر کرے۔
خلاصہ اب تک کی گفتگو کا یہ ہے کہ انسان ہر پر کشش چیز کو دیکھے اس سے متاثر ہوتا ہے، جو چیز اس کے دل کو بھاتی ہے، اس کو پسند آتی ہے، وہ اس کی خواہش کرنے لگتا ہے اور بسا اوقات وہ اسے اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہے۔ انسان جس طرح زندگی گزارتا ہے، اس کے طرز عمل
کو دیکھ کر لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کی پیروی کرتے ہیں۔
آدمی اپنے تئیں شاید یہ سمجھ رہا ہو کہ بھلا کون اس کی پیروی کرے گا، وہ تو ایک عام سا آدمی ہے، لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس کی کون سی ادا کسی کو پسند آگئی ہو، کسی کا لباس ، کسی کے بالوں کا سائل ، کسی کے چلنے کا اندازہ کسی کی گفتگو کسی کا رہن سہن، کسی کی سگریٹ نوشی کسی کی زبان درازی کسی کی شان و شوکت، کسی کے سود پر لئے ہوئے مکان اور گاڑیاں ، کسی کا سودی کاروبار، خوشی کے موقعوں پر رسم و رواج اور ناچ گانے ، غرضیکہ آدمی جس طرح بھی زندگی گزارتا ہے اسے دیکھ کر لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ اور لوگ آپ کے کسی طرز عمل سے متاثر ہو کر اسے اپنے لئے نمونہ زندگی بناتے ہیں یہ آپ نے سوچنا ہوگا کیونکہ آپ اپنے اہل خانہ کے لئے ، اہل محلہ کے لئے اور معاشرے کے لئے جیسی مثال بنیں گے ویسا ہی اس کا اجر یا گناہ پائیں گے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أجْرٍ مَنْ عَمِلَ بِها وَلا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْ..)) (صحیح مسلم:1017)
’’جس نے اسلام میں کسی اچھی چیز کی بنیاد رکھی، کوئی اچھا کام جاری کیا اور اس کے بعد اس پر عمل ہوا تو اُس عمل کرنے والے کے اجر کے برابر اس شخص کو بھی اس کا اجر ملے گا اور عمل کرنے والے کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘
((وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً سيِّئَةً فَعَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلا يَنقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ))
’’اور جس نے کسی برے کام کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد اس پر کسی نے عمل کیا، تو پہلے شخص کو اس عمل کرنے والے شخص کے گناہ کے برابر گناہ ملے گا اور اس کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘‘
اسی طرح ایک مشہور حدیث ہے: آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ عَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا وَعِلْمًا، فَهُوَ يَتَّقِى فِيهِ رَبَّهُ، وَيَصلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ فِيْهِ حَقًّا فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ))
’’کہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے: ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ تعالی نے مال اور علم کی دولت دی تو وہ اپنے رب سے اس مال کے کھانے اور خرچ کرنے میں ڈرتا ہے اور اس کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال کرتا ہے تو یہ سب سے افضل درجے پر ہے۔‘‘
(( وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقُهُ مَالاً، فَهُوَ صَادِقُ النِیَّةِ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالَا لَعَمِلْتُ بِعَمَل فَلانَ، فَهُوَ بِنِیَّتِهِ، فَأَجْرُهُمَا سواه))
’’اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا ہو، لیکن مال و دولت سے اسے محروم رکھا پھر بھی اس کی نیت کچی ہے وہ کہتا ہے کہ کاش! میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس شخص کی طرح عمل کرتا لہذا اسے اس کی کچی نیت کی وجہ سے پہلے شخص کی طرح اجر برابر ملے گا۔‘‘
((وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقُهُ عِلْمًا ، فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بغير علمٍ، لَا يَتَّقِي فِيْهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلهِ فِيهِ حَقًّا ، فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ))
’’اور ایک دو بندہ جسے اللہ تعالی نے مال دیا ہے لیکن علم نہیں دیا ، وہ اپنا مال بغیر علم کے بے تکا اور بے ہنگم خریق کرتا ہے ، اور خرچ کرتے ہوئے اللہ تعالی سے نہیں ڈرتا، یعنی نا جائز کاموں میں خرچ کرتا ہے اس مال سے صلہ رحمی نہیں کرا، اور اس میں اللہ تعالی کے حق کا خیال بھی نہیں کرتا ، تو ایسا شخص سب سے بدترین درجے پر ہے۔‘‘
((وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقُهُ اللهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بَعَمِلِ فُلانٍ، فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ))
’’ اور ایک دو بندہ جسے اللہ تعالی نے مال و دولت اور علم دونوں سے محروم رکھا اور وہ کہتا ہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں کی طرح عمل کرتا ( یعنی برے کاموں میں خرچ کرتا ) تو اس کی نیت کا وبال اسے ملے گا تو دونوں کے گناہ کا بوجھ برابر ہے۔‘‘ (سنن ترندی:2325)
ان احادیث کی روشنی میں ہم نے جانا کہ آدمی غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر بھی جو کچھ کرتا ہے اگر لوگ اسے دیکھ کر اس جیسا کام کرتے ہیں تو اس عمل کے حساب سے اسے ثواب یا گناہ ملے گا۔ آدمی جو کچھ کرتا ہے وہ گویا دوسروں کو اس کی دعوت دیتا ہے وہ نیکی یا برائی معاشرے میں جس حساب سے پھیلتی ہے تو اسی حساب سے وہ اس کا اجر یا ثواب پاتا ہے۔ آپ کسی کام میں کسی کے لئے آئیڈیل بن رہے ہیں، اس کی فکر ہونی چاہیے۔
…………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں