1
“لیس منّا” یعنی “وہ ہم میں سے نہیں” نبی کریم ﷺ کی اُن سخت مگر حکیمانہ تنبیہوں میں سے ہے جن کے ذریعے آپ ﷺ نے مسلمانوں کو غلط رویّوں اور تباہ کن اخلاق سے بچایا۔ یہ الفاظ اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ جس شخص میں اسلامی کردار اور اخلاق کی بنیادی خوبیاں نہ ہوں، وہ عملی طور پر اُمت کے اصل مزاج سے دور جا رہا ہے۔ چاہے وہ دھوکہ دہی ہو، وعدہ خلافی، جھوٹ، بدسلوکی یا دوسروں کو نقصان پہنچانا—ایسے اعمال انسان کو اُس بلند معیار سے ہٹا دیتے ہیں جس کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی۔ “لیس منّا” کا مقصد کسی کو امت سے خارج کرنا نہیں بلکہ اس بات پر توجہ دلانا ہے کہ مسلمان کا کردار ایسا ہونا چاہیے جو رحمت، سچائی اور پاکیزگی کا آئینہ ہو۔
مزید پڑھیںليس منا . وہ ہم میں سے نہیں
2
شعبان میں کثرت سے روزوں کا بیان : صحیح مسلم حدیث نمبر 1156 / 2719 میں ہے: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَن صِيَامٍ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِن شَهْرٍ فَطْ ، أَكْثَرَ مِن صِيَامِهِ مِن شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعَبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا. حضرت عائشہ ان سے نبی اکرم علی ٹیم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا : آپ روزے رکھتے تھے حتی کہ ہم کہتے : آپ روزے پہ روزے رکھتے جا رہے ہیں۔ اور آپ افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کر دیتے حتی کہ ہم کہتے : آپ مسلسل افطار کر رہے ہیں، کہا: جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے ہوں، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔
مزید پڑھیںماہ شعبان
3
انسانی معاشرے کی طبقاتی تقسیم ﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤیۙ۝اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰیؕ۝اِنَّ اِلٰی رَبِّكَ الرُّجْعٰیؕ۝۸﴾ (العلق: 6۔8) ’’ہرگز نہیں ! بے شک انسان حد سے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ وہ غنی ہو گیا ہے بے شک تیرے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اس دنیا میں، انسانی معاشرے میں یوں تو…
مزید پڑھیںانسانی معاشرے کی طبقاتی تقسیم
4
تخلیق انسان کا مقصد اور حکمت ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ﴾ (الذاريات:56) ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘ اللہ تعالی نے اپنی مشیئت کاملہ اور حکمت بالغہ کے تحت بے شمار اور لا تعداد مخلوقات پیدا فرمائیں، ایسی کثیر تعداد میں کہ جس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿وَمَا…
مزید پڑھیںتخلیق انسان کا مقصد اور حکمت
5
مزید پڑھیںمنہج صحابہ اور سبیل المومنین سے انحراف کی صورتیں
6
7
مزید پڑھیںصحابہ کرام اور اہل بیت کے مابین محبت والفت
8
فتنوں کی تعمیم و تفہیم اور بچاؤ کی تدبیریں ترکیب ﴿وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۝﴾ (انفال:25) گذشتہ خطبه جمعہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں فتنوں کے دور کی بات ہو رہی تھی کہ ایک دور ایسا آنے والا ہے جب فتنے رونما ہوں گے، بہت زیادہ ہوں گے،…
مزید پڑھیںفتنوں کی تعمیم و تفہیم اور بچاؤ کی تدبیریں ترکیب
9
حوض اور ترازو کا بیان 1151۔  سیدنا عبد الله بن عمرو بن عاص  رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺنے فرمایا: ((حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنْ الْمِسْكِ وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلَا يَظْمَأُ أَبَدًا)) (أخرجه البخاري:6579، ومسلم:2292 واللفظ له)  ’’میرا حوض (لمبائی چوڑائی میں) ایک ماہ کی مسافت کے…
مزید پڑھیںحوض اور ترازو کا بیان
10
جہمیہ کی تردید 1065۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ  نبی ﷺ مذکورہ کلمات سے سیدنا حسن اور سیدنا حسین  رضی اللہ  تعالی عنہماکو دم کرتے اور فرماتے: (إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يَعْوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ)) ’’تمھارے دادا سید ابراہیم علیہ السلام بھی انھی کلمات سے اسماعیل اور اسحاق  علیہ السلام کو دم کرتے تھے۔‘‘ (وہ…
مزید پڑھیںجہمیہ کی تردید