11
دنیا کی چمک دمک اور ظاہری آسائشیں انسان کو فریب میں مبتلا کر دیتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی وقعت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اگر دنیا کی اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت ہوتی، تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔”یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت میں نہیں بلکہ ایمان، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری میں ہے۔دنیا کی محبت دل سے نکال کر جب بندہ اللہ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے تو وہ حقیقی سکون پا لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا کو عارضی سمجھ کر اپنی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی بنائیں۔
مزید پڑھیںدنیا کی حیثیت مچھر کے پر جتنی بھی نہیں
12
13
14
15
16
17
بد دعا بعض اوقات مسلمانوں کی کفار کے خلاف ہوتی ہے۔ ان میں انبیاء کرام اور عام لوگوں کی بد دعا بھی شامل ہوتی ہے جس پر کفار کی پکڑ ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات بد دعا کرنے والا مسلمان ہوتا ہے اور کبھی اپنے خلاف کبھی اپنے مال اور اولاد کے خلاف اور کبھی اپنے دوست احباب کے خلاف کرتا ہے کبھی ماں اپنی اولاد کے خلاف بد دعا کر دیتی ہے جس سے اولاد پر سختیاں آجاتی ہیں اس لئے بولنے سے پہلے بہت دفعہ تو لنا چاہیئے ۔
مزید پڑھیںبد دعائیں اور ان پر پکڑ
18
19
20