1
2
ماہِ رجب اسلامی تقویم کے حرمت والے مہینوں میں شامل ہے۔ جاہلیت کے دور میں بھی اس مہینے کی کچھ حرمت اور روایات موجود تھیں، جبکہ اسلام نے اسے شرعی حیثیت عطا کرتے ہوئے حرمت والے مہینوں میں برقرار رکھا۔ رجب کے بارے میں صحیح اسلامی تعلیمات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ثابت شدہ اعمال اختیار کیے جائیں اور غیر ثابت شدہ رسومات وبدعات سے اجتناب کیا جائے۔
مزید پڑھیںماہ رجب جاہلیت و اسلام کے آئینے میں
3
ذی الحجہ کے پہلے دس دن اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقرب حاصل کرنے کے عظیم مواقع ہیں۔ ان مبارک ایام میں ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات، نوافل اور دیگر نیک اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے۔ مسلمان کو چاہیے کہ ان دنوں کی قدر کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
مزید پڑھیںعشرۃ ذی الحجہ عبادات اور تقرب الہی
4
شعبان المبارک اسلامی سال کا ایک بابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمان عبادت، ذکر و اذکار اور نیک اعمال کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ شعبان کی راتوں کے بارے میں شریعت کی تعلیمات کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ صحیح اعمال اختیار کیے جائیں اور غیر ثابت شدہ رسومات سے بچا جا سکے۔ یہ مہینہ رمضان المبارک کی تیاری اور اپنے اعمال کی اصلاح کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیںشعبان کی راتیں اور شریعت کی باتیں
5
ماہِ صفر اسلامی کیلنڈر کا ایک اہم مہینہ ہے جس کے بارے میں بعض معاشروں میں نحوست اور بدشگونی کے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ اسلام نے ایسے باطل خیالات کی نفی کی ہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل، صحیح عقیدہ اور شریعت کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی دی ہے۔ ماہِ صفر کو بھی دیگر مہینوں کی طرح اللہ کی طرف سے مقرر کردہ وقت سمجھنا چاہیے اور ہر معاملے میں خیر و برکت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا چاہیے۔
مزید پڑھیںماہ صفر برکت و نحوست کا اسلامی تصور
6
7
ماہِ شعبان کے شرعی اور غیر شرعی اعمال میں فرق جاننا ضروری ہے۔ شرعی اعمال میں کثرتِ روزہ رکھنا، نفل عبادات کرنا اور رمضان کی تیاری شامل ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ شعبان میں زیادہ روزے رکھا کرتے تھے۔ جبکہ غیر شرعی اعمال میں مخصوص راتوں کو لازم سمجھ کر خاص نمازیں ادا کرنا، بے اصل دعائیں گھڑنا اور ایسے اعمال کو دین کا حصہ سمجھنا شامل ہے جن کی قرآن و صحیح حدیث میں کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اسلام میں وہی عمل معتبر ہے جو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔
مزید پڑھیںماہ شعبان کے شرعی اور غیر شرعی اعمال
8
ماہ صفر کے حوالے سے بدشگونی، نحوست یا کسی قسم کی توہم پرستی بالکل بے بنیاد ہیں اور اسلامی تعلیمات میں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ اسلام میں اللہ پر توکل اور نیک اعمال پر یقین رکھنے کو ترجیح دی گئی ہے، نہ کہ نجومیوں، جادو ٹونے یا خرافات پر۔ ماہ صفر یا کسی اور مہینے کو بدقسمتی یا نحوست سے جوڑنا غلط فہمی اور توہم پرستی ہے، جس سے انسان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے، اللہ کی رضا کے لیے دعا کرے، اور کسی بھی طرح کی بدشگونی یا جادو ٹونے پر یقین نہ کرے۔
مزید پڑھیںماہ صفر بد شگونیوں نحوستوں نجومیوں اور جادو ٹونے کا رد
9
شعبان میں کثرت سے روزوں کا بیان : صحیح مسلم حدیث نمبر 1156 / 2719 میں ہے: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَن صِيَامٍ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِن شَهْرٍ فَطْ ، أَكْثَرَ مِن صِيَامِهِ مِن شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعَبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا. حضرت عائشہ ان سے نبی اکرم علی ٹیم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا : آپ روزے رکھتے تھے حتی کہ ہم کہتے : آپ روزے پہ روزے رکھتے جا رہے ہیں۔ اور آپ افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کر دیتے حتی کہ ہم کہتے : آپ مسلسل افطار کر رہے ہیں، کہا: جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے ہوں، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔
مزید پڑھیںماہ شعبان
10
قرآن مجید کی روشنی میں اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر نذر، نیاز یا قربانی کرنا شرک ہے۔ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے عمل کو قرآن نے فسق ، حرام اور غیر مشروع قرار دیا ہے۔ اگر کسی جانور پر غیر اللہ کا نام مشہور کر دیا جائے…
مزید پڑھیںمحرم الحرام ميں اُھِل لغير اللہ کي شکليں