11
کچا عقیدہ انسان کو کمزور بنیاد والے گھر کی طرح بنا دیتا ہے، جو معمولی سی آندھی میں بھی لرزنے لگتا ہے۔ جب یقین علم کے بغیر ہو تو ہر نئی بات اس پر اثر ڈالتی ہے اور انسان کا راستہ بدل جاتا ہے۔ کچے عقیدے والے لوگ دوسروں کے الفاظ، ماحول کے دباؤ اور بے بنیاد باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر وہ مضبوطی نہیں ہوتی جو سچائی پر جمائے رکھ سکے۔ عقیدے میں پختگی تب آتی ہے جب انسان سمجھ بوجھ کے ساتھ چلتا ہے، سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور اپنے ایمان کو دلیل کی بنیاد پر مضبوط بناتا ہے۔ جو لوگ اپنے عقیدے کو علم کی روشنی سے سنوارتے ہیں، وہی حالات کے طوفان میں بھی قائم رہتے ہیں۔ کچے عقیدے کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ انسان فیصلہ تو کرتا ہے، مگر خوف اور شکوک اسے پیچھے کھینچتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیںکچے عقیدے کی باتیں
12
غدیر خم کا واقعہ اسلام کی تاریخ میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے، جہاں نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو حضرت علیؓ کی ولایت اور اہلِ بیت کی عظمت سے آگاہ فرمایا۔ اس دن آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ "من کنت مولاہ فهذا علی مولاہ”، یعنی جو میرا دوست اور رہنما ہے، وہ علیؓ کا بھی دوست اور رہنما ہے۔ اہلِ بیت کی فضیلت قرآن و حدیث میں بار بار بیان ہوئی ہے، اور انہیں پیغمبر ﷺ کی شفاعت، قرب اور امت کی رہنمائی کا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اہلِ بیت کے احترام اور محبت میں ایمان کی تکمیل مضمر ہے، اور ان کے فضل اور قرب سے دنیا و آخرت میں برکت حاصل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیںغدیر خم کی تفصیل اور اہل بیت کے فضائل
13
رسول رحمت ﷺ کی زندگی رحمت، حسن اور جمال کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ ﷺ کا چہرہ نورانی، اخلاق مہربان اور ہر عمل میں حسن سلوک نمایاں تھا۔ آپ ﷺ کی بشارتیں ایمان والوں کے دلوں میں امید اور خوشی پیدا کرتی تھیں، اور آپ ﷺ کی شخصیت ہر انسان کے لیے محبت، شفقت اور رحمت کا درس تھی۔ حضور ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حسن و جمال صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہونا چاہیے، اور حقیقی خوشی اللہ کی رضا اور پیغمبر ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔
مزید پڑھیںرسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم بشارتیں اور حسن و جمال
14
دعائیں اللہ کے قرب کا سب سے عظیم ذریعہ ہیں اور ہر مومن کی زندگی میں روشنی اور سکون پیدا کرتی ہیں۔ دعا کے ذریعے انسان اپنے دل کی خواہشات اور مشکلات اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے اور رحمت و برکت حاصل کرتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں بار بار تاکید کی گئی ہے کہ صادقانہ دعا ہر حال میں قبول ہوتی ہے۔ دعائیں انسان کو صبر، ہمت اور امید دیتی ہیں، اور روحانی سکون کے ساتھ دنیا و آخرت میں کامیابی کے راستے کھولتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کی زندگی میں دعا کا مقام بے حد بلند اور ضروری ہے۔
مزید پڑھیںدعائیں اور ان کا ثمر
15
نبی کریم ﷺ کے آخری ایام نہایت درد، وصیت اور امت کی خیر خواہی سے بھرپور تھے۔ بیماری کے باوجود آپ ﷺ کی سب سے بڑی فکر امت کی ہدایت اور وحدت تھی۔ آخری لمحات میں بھی آپ ﷺ بار بار نماز کی اہمیت اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرماتے رہے۔ جب وقتِ وصال قریب آیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: "اللهم الرفیق الأعلى” — یعنی "اے اللہ! مجھے اعلیٰ رفیق کے پاس لے جا۔” یہی آپ ﷺ کا آخری کلمہ اور آخری خواہش تھی، اور اسی عظیم جملے کے ساتھ آپ ﷺ کی زندگی ختم ہوئی۔ یہ لمحہ پوری امت کے لیے عشق، درد اور سیرت کا روشن ترین سبق ہے۔
مزید پڑھیںوفات النبی، آخری ایام ، آخری لمحات اور آخری کلمہ
16
عشرۂ مبشرہ کے علاوہ بھی کئی عظیم صحابہ کرام ایسے ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر جنت کی خوشخبری سنائی۔ ان میں سیدنا حسان بن ثابتؓ، سیدنا بلالؓ، سیدنا عکاشہ بن محصنؓ، سیدنا عبداللہ بن سلامؓ، اور سیدنا فاطمہؓ کے گھر والوں سمیت کئی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں۔ ان صحابہ نے ایمان، قربانی، خدمتِ دین اور نبی ﷺ کی اطاعت میں ایسے مقام حاصل کیے کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا ہی میں ان کے لیے جنت کی بشارت بیان فرمائی۔ یہ خوشخبری ان کے اعلیٰ کردار، اخلاص اور اللہ کے دین کے لیے بے مثال جدوجہد کا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیںعشرہ مبشرہ کے علاوہ جنت کی بشارت پانے والے صحابہ کرام
17
18
ظالم اللہ کی پکڑ سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ دنیا میں اگر اسے مہلت مل بھی جائے تو یہ مہلت دراصل آزمائش ہوتی ہے، معافی نہیں۔ جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ اچانک، بے حد طاقتور اور ناقابلِ فرار ہوتی ہے۔ قرآن میں بارہا ظالموں کے انجام کا تذکرہ ہے کہ اللہ دیر کرتا ہے مگر اندھیر نہیں کرتا۔ انسان کا ظلم جتنا بھی بڑا ہو، اللہ کی عدالت اس سے کہیں زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ ظلم کے مقابلے میں اللہ راستبازوں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالم کا انجام ہمیشہ عبرت بن کر سامنے آتا ہے۔
مزید پڑھیںظالم اللّٰہ کی پکڑ میں
19
تزکیۂ نفس کا مطلب ہے اپنے دل، روح اور کردار کو برائیوں سے پاک کر کے نیکی اور تقویٰ سے سنوارنا۔اسلام میں انسان کی کامیابی صرف عبادتوں سے نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اور اخلاقی اصلاح سے بھی وابستہ ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ کامیاب ہوا” — (سورۃ الشمس: 9)تزکیۂ نفس ہمیں غرور، حسد، غیبت، اور نفرت جیسے امراضِ قلب سے بچاتا ہے اور دل میں ایمان، صبر، شکر اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔یہی تزکیہ انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں میں سکون و کامیابی عطا کرتا ہے۔
مزید پڑھیںتزکیہ نفس کیا ہے کیوں ضروری ہے؟
20
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ﷺ، عظیم مدبر، عادل حکمران اور اعلیٰ منتظم تھے۔آپ نے اپنی دور اندیشی، عدل و انصاف اور علم و حکمت سے امت کو استحکام عطا کیا۔ان کی قیادت میں اسلامی سلطنت نے ترقی و وسعت کے نئے دور میں قدم رکھا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں حکمت، صبر اور عدل کا سبق دیتی ہے — آپ کی خدمات اسلام کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
مزید پڑھیںامیرالمؤمنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ