11
اسلام صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، چہرہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ گری کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان اعمال سے منع فرمایا اور مصیبت کے وقت صبر، دعا اور استغفار کی تلقین فرمائی۔ مسلمان کو چاہیے کہ غم اور مصیبت کے مواقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ حقیقی کامیابی سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور صبر و رضا میں ہے۔
مزید پڑھیںاسلام میں ماتم سینہ کوبی اور نوحہ گری کی ممانعت
12
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کی وہ مقدس جماعت ہیں جنہیں Muhammad کی صحبت نصیب ہوئی اور جنہوں نے دینِ اسلام کی حفاظت، اشاعت اور سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں ان کے فضائل اور عظیم مقام کا ذکر موجود ہے۔ صحابۂ کرامؓ ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اطاعتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ تھے، اسی لیے امتِ مسلمہ کے لیے ان کی سیرت مشعلِ راہ اور ان سے محبت ایمان کا اہم تقاضا سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیںشان صحابہ مقام صحابہ
13
14
نیا سال آنا دراصل خوشی کا نہیں بلکہ سوچ اور خود احتسابی کا پیغام ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال اور کم ہو جاتا ہے۔ وقت وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا، اس لیے عقل مند وہی ہے جو ہر نئے سال کو اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی نیک اعمال، تقویٰ اور اللہ کی رضا میں ہے۔ جو شخص گزرے ہوئے وقت سے سبق لے کر آنے والے دنوں کو بہتر بنا لے، وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے۔
مزید پڑھیںنیا سال عمر ایک سال اور کم ہو گئی
15
آیت "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی ہدایت اور بعثت کو تمام انسانیت اور مخلوقات کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق، اور سیرت ہر دل میں رحمت، ہدایت اور سکون لانے کا ذریعہ ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی شفقت، انصاف، صبر اور محبت کا مظہر ہے، اور اسی وجہ سے آپ کی رسالت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے لیے رحمت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی اتباع اور تعلیمات پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں برکت اور ہدایت کا باعث ہے۔
مزید پڑھیںوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
16
آیت "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی شان و مرتبہ کو بلند فرمایا ہے اور دنیا و آخرت میں آپ کا ذکر بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی عظمت اور مقام نہ صرف مخلوق میں بلند ہے بلکہ اللہ کی ذات کے نزدیک بھی آپ کی یاد اور شان ہمیشہ بلند رہے گی۔ ہمیں اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق اور سیرت کو اپنانا ہر مومن کے لیے باعث عزت اور برکت ہے، کیونکہ آپ کا ذکر اور مقام صرف عبادت، اتباع اور محبت کے ذریعے ہی ہمارے دلوں میں بھی بلند ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںورفعنا لك ذكرك
17
آیت "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کی عظمت کو بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ بلند ترین، کامل اور بے مثال کردار کے حامل ہیں۔ آپ کا حلم، صبر، شفقت، عدل، تواضع، صدق، امانت اور عفو و درگزر وہ اوصاف تھے جن کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی اعلیٰ اخلاق میں ہے اور مومن کی خوبصورتی اس کے کردار سے پہچانی جاتی ہے، اس لیے جو شخص نبی ﷺ کے اخلاق کو اپناتا ہے وہ اللہ کی قربت اور لوگوں کی محبت دونوں پاتا ہے۔
مزید پڑھیںوَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيم
18
19
مومن کا مرنے کے بعد کا سفر اللہ کی قدرت اور رحمت کا روشن مظہر ہے۔ جیسے ہی مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس کی روح قبر کی جانب روانہ ہوتی ہے، جہاں اسے اس کے اعمال کے مطابق سکون یا سختی محسوس ہوتی ہے۔ مومن کی قبر میں راحت اور نور ہوتا ہے، اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور اپنے اچھے اعمال کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ پھر اس کا راستہ جنت کی جانب کھلتا ہے، جہاں اللہ کی رضا اور نعمتیں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اس پورے سفر میں مومن کے ایمان، نیک اعمال اور صبر کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے، جو اسے جنت کی حلاوت اور امن تک پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیںمومن کا مرنے سے جنت تک کا سفر
20
اسلام میں نبی کریم ﷺ کے معجزات اور نشانیوں کا بڑا مقام ہے، جنہوں نے لوگوں کو اللہ کی قدرت اور حقانیت کا یقین دلانے کے لیے ظاہر کیے۔ ان میں چاند کے دو ٹکڑوں کا واقعہ بھی شامل ہے، جو ایک عظیم نبوی کرامت کے طور پر مشہور ہے۔ یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر محیط ہے اور نبی ﷺ کی صداقت کی علامت ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معجزات کو ایمان کی بنیاد کے طور پر سمجھے، ان میں شک نہ کرے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرے، کیونکہ یہ کرامات اللہ کی قدرت اور نبی ﷺ کی رسالت کی نشانی ہیں۔
مزید پڑھیںمعجزات نشانیاں اور چاند کے دو ٹکڑے