11
ماہِ شعبان کے شرعی اور غیر شرعی اعمال میں فرق جاننا ضروری ہے۔ شرعی اعمال میں کثرتِ روزہ رکھنا، نفل عبادات کرنا اور رمضان کی تیاری شامل ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ شعبان میں زیادہ روزے رکھا کرتے تھے۔ جبکہ غیر شرعی اعمال میں مخصوص راتوں کو لازم سمجھ کر خاص نمازیں ادا کرنا، بے اصل دعائیں گھڑنا اور ایسے اعمال کو دین کا حصہ سمجھنا شامل ہے جن کی قرآن و صحیح حدیث میں کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اسلام میں وہی عمل معتبر ہے جو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔
مزید پڑھیںماہ شعبان کے شرعی اور غیر شرعی اعمال
12
علمِ حدیث اسلام کا ایک عظیم اور معتبر علم ہے جو ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت اور عملی زندگی سے روشناس کراتا ہے۔ ربانی علما نے اس علم کی حفاظت، تشریح اور اشاعت میں بے مثال خدمات انجام دیں اور امت تک صحیح تعلیمات پہنچائیں۔ دروسِ بخاری اسی عظیم روایت کا تسلسل ہیں، جن کے ذریعے صحیح بخاری کی احادیث کو فہم و بصیرت کے ساتھ سمجھایا جاتا ہے۔ یہ دروس نہ صرف علم میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عمل، تقویٰ اور سنتِ رسول ﷺ سے مضبوط تعلق بھی پیدا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیںعلم حدیث، ربانی علما اور دروس بخاری
13
خودکشی کے اسباب میں مایوسی، شدید ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات، خاندانی جھگڑے، تنہائی اور دینی کمزوری نمایاں ہیں، جب انسان مشکلات کے سامنے ہمت ہار بیٹھتا ہے تو یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔ اسلام میں خودکشی سخت حرام ہے اور زندگی کو اللہ تعالیٰ کی امانت قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس کا تدارک صبر، توکل، دعا اور اللہ سے مضبوط تعلق کے ذریعے ممکن ہے۔ اہلِ خانہ اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ پریشان افراد کی بات سنیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔ دینی تعلیمات، مثبت سوچ، بروقت مشاورت اور ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مدد لینے سے ذہنی سکون حاصل ہو سکتا ہے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںخودکشی کے اسباب اور تدارک
14
15
موجودہ دور میں مادیت پرستی کے غلبے نے انسان کو دنیاوی آسائشات کا اسیر بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں ایمان کی حلاوت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ جب دل مال، شہرت اور خواہشات میں الجھ جائے تو روحانی سکون اور اللہ سے قربت متاثر ہوتی ہے۔ اسلام انسان کو توازن کی تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کو ضرورت کے طور پر اختیار کیا جائے نہ کہ مقصدِ زندگی بنایا جائے۔ ایمان کی حلاوت ذکرِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ اور آخرت کی فکر سے حاصل ہوتی ہے، اور یہی چیز مادیت پرستی کے اندھیروں سے نجات کا راستہ ہے۔
مزید پڑھیںمادیت پرستی کا غلبہ اور ایمان کی حلاوت
16
17
18
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں، جن کی ولادت حضرت مریم علیہا السلام سے بغیر باپ کے معجزانہ طور پر ہوئی۔ قرآنِ مجید میں آپ کو کلمۃُ اللہ اور روحٌ منہ کہا گیا ہے، اور آپ کی دعوت خالص توحید، عبادتِ الٰہی اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی۔ عیسائیت میں بعد ازاں تحریف کے نتیجے میں حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا یا خدا مان لیا گیا، جو اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح کرسمس کو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے طور پر منانا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی سنتِ نبویؐ سے، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام سکھاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ واحد کے لیے خاص قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کا تعارف، عیسائیت کی تعلیمات اور کرسمس کا رد
19
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق مومن کے دل کی وہ پاکیزہ کیفیت ہے جو اسے دنیا کی فانی لذتوں سے بے نیاز کرکے ربّ کی رضا کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ اصل سکون، اصل کامیابی اور حقیقی زندگی اللہ کے حضور ہے تو اس کا دل ذکرِ الٰہی میں لگ جاتا ہے، نماز اسے راحت دیتی ہے، درود و استغفار اس کی روح کو جِلا بخشتے ہیں اور نیک اعمال اسے قربِ الٰہی کی طرف بڑھاتے ہیں۔ یہی شوق انسان کو گناہوں سے دور رکھتا ہے، نیکیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور ہر لمحہ اسے اس ملاقات کی تیاری میں لگا دیتا ہے جہاں کوئی چیز کام نہیں آئے گی سوائے خلوص، تقویٰ اور اللہ کی یاد کے۔
مزید پڑھیںاللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق، اعمال اور اذکار
20
ایامِ فاطمیہ کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر میں تاریخی اور مذہبی حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ان ایام کا تعلق حضرت فاطمہؓ کی وفات کے واقعات اور ان سے منسوب روایات سے جوڑا جاتا ہے، مگر ان کی تاریخی تعیین اور تفصیلات میں اہلِ علم کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔ اسی وجہ سے بعض الزامات اور اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں۔ اہلِ تحقیق کے نزدیک درست طریقہ یہ ہے کہ ایسے حساس موضوعات کو مستند تاریخی مصادر، غیر جانب دار تحقیق اور باوقار مکالمے کی روشنی میں دیکھا جائے۔ الزامات کی تردید اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب دلیل، عدل اور احترام کو بنیاد بنایا جائے، تاکہ امت میں انتشار کے بجائے فہم، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ ملے۔
مزید پڑھیںایام فاطمیہ کی حقیقت اور الزامات کی تردید