21
رویوں کی سختی انسان کی شخصیت کو محدود کر دیتی ہے۔ جب کوئی شخص ہر بات میں اپنی ہی رائے کو درست سمجھتا ہے تو نہ صرف رشتوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ بات چیت اور سمجھنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ سخت مزاجی انسان کو نئے خیالات قبول کرنے سے روکتی ہے، جس کے باعث ترقی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر ذہنی دباؤ، غصے اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ وہ تبدیلی کو قبول نہیں کر پاتے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے لچک ضروری ہے، اور سخت رویہ انسان کو خوشی، سکون اور کامیابی دونوں سے دور لے جاتا ہے۔
مزید پڑھیںرویوں کی سختی کے نقصانات
22
اسلام میں میاں بیوی کا رشتہ محبت، اعتماد اور ذمہ داریوں کے توازن پر قائم ہے۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ بیوی کی عزت، نان نفقہ اور حفاظت کا پورا خیال رکھے، جبکہ بیوی کا حق ہے کہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور اس کی ضروریات پوری کی جائیں۔ بیوی پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کی وفادار، خیرخواہ اور گھر کے نظام کو سنبھالنے میں شریک ہو۔ جدید دور میں مصروفیات، ٹیکنالوجی، غلط فہمیاں اور معاشرتی دباؤ نے ازدواجی زندگی کو نئے چیلنجز دیے ہیں۔ ان مسائل کا حل یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں، باہمی گفتگو کو مضبوط بنائیں، برداشت کا راستہ اختیار کریں اور اسلامی اصولوں کو اپنی زندگی کا معیار بنائیں۔ یہی طریقہ گھر میں سکون، محبت اور کامیابی پیدا کرتا ہے۔
مزید پڑھیںمیاں بیوی کے بنیادی حقوق و فرائض اور جدید مسائل
23
24
25
26
27
28
29
اتحاد، اتفاق اور اجتماع امت ، اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، اور دین اسلام کا سب سے اہم مقصد بھی یہی ہے کہ اس میں باہمی محبت ، قوت، نظم وضبط اور غلبہ دین کی بقا ہے۔ اسی کے ذریعے دین قائم ہوتا ہے اور دنیا تمام فتنوں سے محفوظ رہتی ہے، آسمانی برکات کا نزول ہوتا ہے اور نعمتیں مکمل ہوتی ہیں۔ :
مزید پڑھیںاتحاد کی نعمت اور اس کی حفاظت کے اسباب
30