نماز میں دکھلاوے اور شرک سے بچنا ضروری ہے

333۔سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہ  رسول اللہ ﷺ  سے بیان کرتے ہیں کہ جب آپﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو فرماتے:

((اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ۝۷۹..قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ۝۱۶۲

لَا شَرِیْكَ لَهٗ ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۝))(أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ:771)

’’میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ہر طرف سے یکسو ہو کر اور میں اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں، بلاشبہ میری نماز اور میری ہر (بدنی و مالی) عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو پوری کائنات کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کا مجھے حکم ملا ہے اور میں فرماں برداری کرنے والوں میں سے ہوں۔ “

334۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟))

’’کیا میں تمھیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمھارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔‘‘

ہم نے کہا: کیوں نہیں (فرمائیے)۔ آپﷺ نے فرمایا:

((الشَّرْكُ الْخَفِيُّ، أَنْ يَّقُومَ الرَّجُلُ يُصَلَّى فَيُزَيّنُ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ)) (أَخْرَجَهُ ابن ماجه: 4204)

’’چھپا ہوا شرک۔ (وہ یہ ہے) کہ آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اپنی نماز کو خوبصورت بناتا ہے۔‘‘

335۔سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ تشریف لائے اور فرمایا:

((يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَشِرْكَ السَّرَائِر)) ’’لوگو! اپنے آپ کو خفیہ شرک سے بچالو۔‘‘

صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! خفیہ شرک کون سا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:

((يَقُومُ الرَّجُلُ فَيُصَلِّى، فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ جَاهِدًا لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَذٰلِكَ شِرْكَ السَّرَائِرِ)) (أخرجه ابن خزيمة: 937، والبيهقي:291/2)

’’آدمی اٹھ کر نماز پڑھنے لگتا ہے، جب دیکھتا ہے کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں تو اپنی نماز کو مزین کر دیتا ہے، یہ خفیہ شرک ہے۔“

توضیح و فوائد:  مذکورہ احادیث میں نماز کا ذکر بطور مثال ہے، ہر نیک عمل کا یہی حال ہے۔ اگر نیت میں ریا کاری آگئی تو بڑے سے بڑا عمل بھی برباد ہو جائے گا، اس لیے عبادت پر محنت سے پہلے نیت کی اصلاح پر محنت کرنا ضروری ہے۔ خفی شرک کا یہ فتنہ دجال کے فتنے سے بھی اس لیے زیادہ خطر ناک ہے کہ دجال سے ایک خاص زمانے کے لوگ ہی متاثر ہوں گے لیکن یہ فتنہ ہر دور میں رونما ہو سکتا ہے اور ہر فرد اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ أعاذنا الله منه.

336۔سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا:

((يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً فَيَذْهَبْ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا))

 ’’قیامت کے دن اللہ تعالٰی اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن مرد و عورت اسے سجدہ کریں گے اور جو دنیا میں ریا کاری اور شہرت کے لیے سجدے کرتے تھے وہ باقی رہ جائیں گے۔ یہ (ریا کار) سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کی کمر تختہ بن جائے گی۔‘‘

اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ تِقَاءً وَرِيَاءً إِلَّا جَعَلَ الله ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَّاحِدَةً، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلٰى قَفَاهُ))

(أخرجَهُ مُسْلِمٌ: 183)

’’کوئی شخص ایسا نہیں بچے گا جو جان بچانے کے لیے یا دکھلاوے کے لیے سجدہ کرتا تھا مگر اللہ تعالی اس کی کمر کو تختہ بنادے گا، جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا اپنی گدی کے بل گر پڑے گا۔‘‘

 توضیح و فوائد:  اس حدیث میں اللہ تعالی کی پنڈلی کا ذکر ہے اور اس سے حقیقی پنڈلی ہی مراد ہے۔ اس کی تاویل ٹھیک نہیں، تاہم اس کی کیفیت کیا ہو گی؟ یہ صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے، یہ پنڈلی جیسی بھی ہو، بس اللہ رب العزت کی شان کے مطابق ہی ہے۔ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ نہ اس کی کوئی مثال ہی دی جاسکتی ہے۔ دنیا میں ریا کاری کے لیے سجدے کرنے والے روز قیامت سجدہ نہیں کر سکیں گے۔

337۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا:

((مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيءٍ فَهُوَ حَظُّهُ)) (أَخْرَجَهُ أبو داود:472)

’’جو شخص جس نیت سے مسجد میں آیا ہو، اس کا وہی نصیبہ ہے۔ ‘‘

338۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:

((نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُّوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِنُ الْبَعِيرُ)) (أَخْرَجَهُ أبو داود:862، والنسائي في الكبرى: 6896، وابن ماجه:1429، وأحمد: 15532، وابن حبان:2277،و ابن أبي شيبة:91/2، وابن خزيمة:662، و 1319، والدارمي:303/1)

’’رسول اللہ ﷺ نے نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے، درندے کی مانند پھیل کر بیٹھنے اور مسجد میں نماز کے لیے جگہ خاص کر لینے سے جیسے کہ اونٹ خاص کر لیتا ہے، منع فرمایا ہے۔ ‘‘

توضیح و فوائد:  کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے کا مطلب یہ ہے کہ جلدی جلدی رکوع و سجود کرنا، پوری طرح اطمینان سے نہ کرنا اور درندے کی طرح پھیل کر بیٹھنے سے مراد یہ ہے کہ سجدے میں بازو اس طرح زمین پر بچھا دینا کہ کہنیاں بھی زمین پر لگی ہوں، نیز مسجد میں نماز کے لیے ایک جگہ خاص کرنے سے ریا کاری کا شبہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع فرما دیا۔

339۔ سیدنا ابن عمر  رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:  رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا:

((لَا تَحَرُّوا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَى شَيْطَانٍ))

’’طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت اپنی نمازیں ادا کرنے کی کوشش نہ کیا کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ ‘‘

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے:

((وَحِينَئِذٍ يَّسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ)) (أَخْرَجَهُ البُخَارِي: 582، ومُسْلِم:828، 832)

’’اس وقت کافرلوگ اس (سورج) کو سجدہ کرتے ہیں۔‘‘

 توضیح و فوائد:  عام طور پر جو وقت نماز کا نہیں ہے، اس میں اہتمام اور کوشش سے نماز پڑھنے سے بھی دکھلاوے کا اظہار ہوتا ہے کہ لوگ کہیں کہ فلاں بہت نوافل پڑھتا ہے، اس لیے اس سے بھی منع کر دیا هر چند براہ راست اس کا ریا کاری سے کوئی تعلق نہیں۔

340۔علاء بن عبد الرحمان بیان کرتے ہیں کہ وہ نماز ظہر سے فارغ ہو کر سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انھوں نے پوچھا: کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے ان سے عرض کی: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: تو عصر پڑھ لو۔ ہم نے اٹھ کر (عصر کی) نماز پڑھ لی، جب ہم فارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ  کو فرماتے ہوئے سنا:

((تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنِي الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا)) (أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ:622)

’’یہ منافق کی نماز ہے، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ (جب وہ زرد پڑ کر)  شیطان کے دو سینگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو وہ کھڑا ہو کر اس (نماز) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے۔‘‘

341۔سیدنا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہتے ؟ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤْذَنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أَخَالِفَ إِلٰى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ)) (أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيَّ: 644، وَمُسْلِمٌ:651)

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ میں کسی کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تاکہ  لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے، پھر نماز کے لیے کسی کو اذان دینے کے متعلق کہوں، پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں خود ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے)، پھر انھیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو جائے کہ وہ مسجد میں موٹی ہڈی یا دو عمدہ گوشت والے پائے حاصل کرے گا تو وہ نماز عشاء میں ضرور حاضر ہو۔‘‘

توضیح و فوائد:  مذکورہ دونوں احادیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافقوں کی نماز بظاہر عام نمازیوں کی طرح ہوتی ہے لیکن ان کا مقصد اللہ کو راضی کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی نظروں میں نمازی بننا ہوتا ہے، اس لیے نہ وہ رکوع و سجود صحیح انداز سے کرتے ہیں اور نہ وقت اور جماعت کی پابندی ہی کرتے ہیں۔

……………………