*بت شکن پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کا بتوں کو توڑنا، آگ میں پھینکا جانا اور بادشاہِ وقت کے ساتھ مناظرہ*
*بتوں کا زبانی رد کرنے کے بعد پریکٹیکلی رد کرنے کا منصوبہ*
ابراہیم علیہ السلام نے زبان سے بتوں کی تردید کے بعد سمجھا کہ ان لوگوں کو زبانی سمجھانا کافی نہیں بلکہ ان کے دماغوں میں ان بتوں کی خدائی اور مشکل کشائی کا جما ہوا عقیدہ ختم کرنا ایک زبردست عملی کارروائی کے بغیر ممکن نہیں، جس سے ان کی بے بسی صاف واضح ہو جائے۔
لھذا کہنے لگے
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
اور اللہ کی قسم! میں ضرور ہی تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔
الأنبياء : 57
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات دل میں کہی۔ بعض نے لکھا ہے کہ جب سب لوگ چلے گئے تو انھوں نے ایک آدھ آدمی کی موجودگی میں یہ بات کہی۔
واللہ اعلم بالصواب
*لوگ اپنے کسی میلے میں جانے لگے*
ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ اپنے خاص جشن کے موقع پر گھروں سے باہر نکلتے اور سارا دن جشن مناتے، اس سال بھی وہ نکلے تو انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ چلنے کا کہا
*ابراهيم علیہ السلام سوچ میں پڑ گئے*
جب لوگوں نے میلے میں ساتھ چلنے کا کہا تو ابراہیم علیہ السلام کچھ دیر ٹھہر کر سوچنے لگے کہ انہیں کیسے جواب دیا جائے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ
پس اس نے ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی۔
الصافات : 88
ستاروں میں نگاہ ڈالنا ایک محاورہ ہے جو غوروفکر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
*ابراهيم علیہ السلام نے میلے میں نہ جانے کا بہانہ کیا*
بالآخر سوچ و بچار کے بعد کہنے لگے :
فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ
پھر کہا میں تو بیمار ہوں۔
الصافات : 89
*لوگ، ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ کر میلے میں چلے گئے*
فرمایا :
فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ
تو وہ اس سے پیٹھ پھیر کر واپس چلے گئے۔
الصافات : 90
*بت شکن ابراهيم علیہ السلام بت خانے میں داخل ہوتے ہیں*
ابراہیم علیہ السلام موقع پا کر چپکے سے بت خانے کے اندر داخل ہو گئے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
فَرَاغَ إِلَى آلِهَتِهِمْ
تو وہ چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف گیا
الصافات : 91
*بتوں سے خطاب*
ابراہیم علیہ السلام نے بت خانے میں بتوں کے سامنے کھڑے ہو کر بتوں سے خطاب کیا
اس خطاب کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں
*کھاتے کیوں نہیں ہو*
ظاہر ہے کہ مندر میں بتوں کے سامنے طرح طرح کے کھانے، مٹھائیاں اور پھل وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ تو مذاق اڑاتے ہوئے ان سے کہنے لگے:
فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ
اور اس نے کہا کیا تم کھاتے نہیں؟
الصافات : 91
مقصد یہ کہ معمولی جانور بھی کم از کم کھاتے تو ہیں، یہ بے جان پتھر جو کھاتے بھی نہیں، انسان ان کی پوجا کیسے کرنے لگا؟
*بولتے کیوں نہیں ہو*
جب بتوں کی طرف سے جواب نہ ملا تو اگلا سوال یہ کیا :
مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ
تمھیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں ؟
الصافات : 92
یعنی ناک نقشہ اور تمام اعضا تو تمھارے انسانوں جیسے ہیں، مگر تم نہ کھا سکتے ہو، نہ بول سکتے ہو، پھر تعجب ہے کہ وہ انسان تمھیں پوجنے لگے جو کھاتے پیتے بھی ہیں اور بولتے بھی ہیں؟
*بت شکن پیغمبر نے بتوں کو پاش پاش کرنا شروع کر دیا*
جواب نہ پا کر پوری قوت سے انھیں توڑنا شروع کر دیا
فرمایا :
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
پھر وہ دائیں ہاتھ سے مارتے ہوئے ان پر پل پڑا۔
الصافات : 93
اور ان کے ایک بڑے بت کے سوا باقی سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔
الأنبياء : 58
*بتوں کو توڑنے کے لیے کونسے اوزار استعمال کیے*
یہاں اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے سب کو توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا، مگر یہ محض اسرائیلی روایت ہے، قرآن یا حدیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ پھر پتھر کے بت توڑنے کے لیے کلہاڑے کے بجائے ہتھوڑا استعمال ہوتا ہے۔ ہاں اگر لکڑی کے بت ہوں تو الگ بات ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کیسے ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اس کے لیے صرف ایک ہتھیار استعمال کیا یا جس جس اوزار کی ضرورت تھی سب استعمال فرمائے۔
*ایک بڑے بت کو کیوں نہیں توڑا*
ابراہیم علیہ السلام نے ان کے ایک بڑے بت کو کچھ نہیں کہا تاکہ جب وہ سب بتوں کو ٹوٹا ہوا اور اسے صحیح سلامت دیکھیں تو اس سے پوچھیں کہ جناب آپ کے غصے کا باعث کیا ہوا کہ آپ نے ان سب خداؤں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو آپ کے ہوتے ہوئے کوئی ظالم یہ کام کیسے کر گیا؟
ایک معنی اس کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک بڑے کے سوا تمام بت ٹکڑے ٹکڑے کر دیے کہ وہ لوگ جب یہ ماجرا دیکھیں گے تو فوراً ان کا ذہن ابراہیم علیہ السلام ہی کی طرف جائے گا، پھر جب وہ ان سے پوچھیں گے تو انھیں شرک کی تردید کا بہترین موقع مل جائے گا۔
*قوم کی میلے سے واپسی اور بتوں کی تباہی کا منظر*
لوگ جب میلے سے واپس پلٹے تو بتوں کو تباہ حال دیکھ کر سخت غصے میں آکر کہنے لگے :
قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
انھوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ بلاشبہ وہ یقینا ظالموں سے ہے۔
الأنبياء : 59
*مشرک کی عقل ماری گئی*
مشرکوں کے عقل سے عاری ہونے کی کیسی زبردست تصویر ہے۔ کہنے لگے، ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے؟ سوچا ہی نہیں کہ وہ معبود ہی کیا جو اپنا دفاع بھی نہ کر سکے؟ لطف یہ کہ سب نے یہی کہا کہ کوئی اور ان کے خداؤں کا یہ حال کر گیا ہے۔
قبر پرستوں کا بھی یہی حال ہے:
جو کروٹ بدلنا نہیں جانتے ہیں
انھیں آپ مشکل کشا مانتے ہیں
*کُھرا ابراہیم علیہ السلام کی طرف*
جب لوگوں نے بتوں کو توڑنے کا مجرم تلاش کرنا چاہا تو انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ جن لوگوں نے وہ تقریر سنی تھی، جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور قوم کے سامنے کی تھی اور جس میں انھوں نے صاف اعلان کیا تھا کہ اللہ کی قسم! میں ضرور تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، انھوں نے کہا :
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔
الأنبياء : 60
*ابراهيم علیہ السلام کے متعلق حقارت آمیز انداز*
ان مشرکوں کا ابراہیم علیہ السلام کی تحقیر کا انداز دیکھیے، وہ انھیں ابراہیم نامی ایک غیر معروف جوان بتا رہے ہیں، حالانکہ ابراہیم علیہ السلام جیسی شخصیت گمنام ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ بھلا سورج یا چاند بھی چھپے رہ سکتے ہیں؟ پھر وہ اس عمل کا باعث ان کی جوانی کو قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ان جاہلوں کو معلوم ہی نہیں کہ اس جوان کی جوانی دیوانی نہیں بلکہ ایسی ہوش مند ہے جس پر بے شمار پختہ عمروں کی پختہ عمری قربان ہے۔
*مشورہ یہ طے پایا کہ ابراہیم علیہ السلام کو پکڑ کر لوگوں کے سامنے لایا جائے*
کہنے لگے :
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ
انھوں نے کہا پھر اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہو جائیں۔
الأنبياء : 61
*لوگوں کے سامنے لانے کی وجہ کیا تھی*
اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں :
ایک تو یہ کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہو جائیں کہ یہی شخص ہے جو بتوں کی برائی بیان کرتا تھا اور ان کا بندوبست کرنے کی قسمیں اٹھاتا تھا اور اس کا مجرم ہونا ثابت ہو جائے کہ یہ کام بھی اسی کا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی موقع کا گواہ بھی مل جائے، جس نے اسے بت توڑتے ہوئے دیکھا ہو۔
دوسری وجہ یہ کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہو جائیں اور آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اس کے ساتھ کیسا عبرتناک سلوک کیا جاتا ہے، تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کی جرأت نہ ہو۔
*لوگ ابراہیم علیہ السلام کی طرف سر پٹ دوڑے*
ابراہیم علیہ السلام کو پکڑ کر لوگوں کے سامنے لانے والی بات طے کرنے کے بعد لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کی طرف دوڑ لگا دی
فرمایا :
فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ
تو وہ دوڑتے ہوئے اس کی طرف آئے۔
الصافات : 94
*اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر*
وہ تو ابراہیم علیہ السلام کو مجرم ثابت کرنے کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر رہے تھے مگر درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کی دلی تمنا پوری ہونے کا سامان ہو رہا تھا کہ کسی طرح سب لوگ جمع ہوں تو وہ ان کے سامنے بتوں کی بے بسی اور مشرکوں کی بے عقلی واضح کریں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ
اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا ارادہ کیا توہم نے انھی کو انتہائی خسارے والے کر دیا۔
الأنبياء : 70
*ابراهيم علیہ السلام سے تفتیش شروع*
ابراہیم علیہ السلام سے لوگوں نے سوالات کرنے شروع کر دیے
قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ
انھوں نے کہا کیا تو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے اے ابراہیم!؟
الأنبياء : 62
*ابراهيم علیہ السلام کا جواب*
ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بتوں کی بے بسی و بے چارگی واضح کرنے کے لیے شدید طنز کرتے ہوئے فرمایا :
قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ
اس نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو، اگر وہ بولتے ہیں۔
الأنبياء : 63
*ابراهيم علیہ السلام نے کیوں کہا کہ ان کے بڑے بت سے پوچھ لو*
مراد خود ان کے منہ سے اس بات کا اقرار کروانا تھا کہ بت نفع یا نقصان تو دور کی بات ہے بول کر بتا بھی نہیں سکتے کہ ان کا یہ حال زار کون کر گیا ہے۔
یعنی صحیح سالم رہنے والے ان کے اس بڑے سے پوچھو کہ اس نے بت کیوں توڑے اور اگر کسی اور نے توڑے ہیں تو اس نے اپنے ساتھیوں کا دفاع کیوں نہیں کیا؟
اور ٹوٹے ہوئے خداؤں سے بھی پوچھو کہ کس نے ان کا یہ حال کیا اور یہ بھی کہ وہ خود یا ان کا بڑا ان کا دفاع کیوں نہیں کر سکے؟
ان کے ایک بڑے بت کو سالم چھوڑنے میں یہ اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا اپنے ساتھ کسی بڑے یا چھوٹے مدمقابل کو برداشت نہیں کرتا تو رب تعالیٰ جس کی صفت ہی ’’اللہ اکبر‘‘ ہے، اپنے ساتھ کسی شریک کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟
*ابراهيم علیہ السلام کے سوال کے بعد وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے*
ابراہیم علیہ السلام کی اس زبردست چوٹ نے انھیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سب نے اپنے دل میں غور کیا تو کہہ اٹھے کہ تم اس جوان کو خواہ مخواہ ظالم کہہ رہے ہو، ظالم تو تم خود ہو جو ایسی بے حقیقت چیزوں کو اپنا معبود قرار دے کر پوجتے پکارتے اور انھیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا قرار دیتے ہو، جن کی بے بسی اور بے چارگی کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو بھی دفع نہیں کر سکتے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے آپ پر گزری ہوئی مصیبت کسی دوسرے کے سامنے بیان بھی نہیں کر سکتے، تو پھر اس سے بڑھ کر ظلم اور حماقت کیا ہو سکتی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بے چارگی کی منظر کشی ان الفاظ میں کی ہے :
فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ
تو وہ اپنے دلوں کی طرف لوٹے اور کہنے لگے یقینا تم خود ہی ظالم ہو۔
الأنبياء : 64
ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ
پھر وہ اپنے سروں پر الٹے کر دیے گئے، بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔
الأنبياء : 65
*ابراهيم علیہ السلام کا قوم کے سامنے آخری اور فیصلہ کن خطاب*
ابراہیم علیہ السلام اتنے بڑے مجمع میں ان کی زبان سے یہی کہلوانا چاہتے تھے اور سب کچھ اسی ترتیب سے ہو رہا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کی توقع اور خواہش کے مطابق تھی۔ ان کے لیے توحید کی دعوت اور شرک کے رد کا ایسا سنہرا موقع شاید اس سے پہلے کبھی نہ آیا ہو، چنانچہ جب وہ ہر طرح سے لاجواب ہو گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے آخری اور فیصلہ کن خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
اس نے کہا کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو؟
الصافات : 95
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔
الصافات : 96
مطلب یہ کہ کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو، حالانکہ تم اور تمھارے بت دونوں اللہ کی مخلوق ہیں، پھر خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کیوں کرتے ہو؟
*افسوس ہے تم پر*
سورہ انبیاء میں ہے آپ نے فرمایا :
قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ
کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمھیں کچھ نفع دیتی ہے اور نہ تمھیں نقصان پہنچاتی ہے؟
الأنبياء : 66
أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔
الأنبياء : 67
*قوم کے لوگ مشورہ کرنے لگے کہ اسے کیا سزا دی جائے۔*
قوم جب دلیل میں ہر طرح لاجواب ہو گئی تو تشدد پر اتر آئی ابراہیم علیہ السلام کی جان کے درپے ہو گئی۔اور باطل پرستوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے، ان کے پاس دلیل کا جواب دلیل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مار دو، جلا دو۔
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا تو نیکی اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ بدی کے غلبے کی صورت میں جب اس کے پاس کوئی دلیل نہیں رہتی اور وہ مکمل طور پر لاجواب ہو جاتا ہے تو اپنے مخالف کو دھمکیاں دیتا ہے۔
*بانت بانت کے مشورے*
کسی نے مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دو اور کسی نے کہا جلا دو۔
قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ
انھوں نے کہا اسے قتل کر دو، یا اسے جلادو
عنکبوت : 24
*خری فیصلہ یہی ہوا کہ اسے عبرت ناک طریقے سے جلا دو*
آخر فیصلہ یہ ٹھہرا کہ اپنے معبودوں کا انتقام لینے کی اور ان کی نصرت کی یہی صورت ہے کہ اسے جلا کر راکھ بنا دو۔ کیوں کہ وہ انھیں زیادہ سے زیادہ اذیت پہنچانا چاہتے تھے۔
چنانچہ سورہ انبیاء میں ہے :
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ
انھوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تم کرنے والے ہو۔
الأنبياء : 68
*انہوں نے آگ میں جلانے والے مشورے کو ابراہیم علیہ السلام سے مخفی رکھا*
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا
اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا ارادہ کیا۔
الأنبياء : 70
’’كَيْدًا‘‘ خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں۔
یعنی کفار نے ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کی سازش ان سے خفیہ رکھی تھی۔ شاید ان کا مقصد یہ ہو کہ ابراہیم علیہ السلام ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔
*ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کا خطرناک اور وسیع انتظام*
انھوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم( علیہ السلام ) کے لیے ایک بڑی عمارت بناؤ، اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگاؤ اور جب وہ خوب بھڑک اٹھے تو ابراہیم( علیہ السلام ) کو اس میں پھینک دو۔
اپنے فیصلے کے مطابق انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کا زبردست انتظام کیا
چنانچہ لکڑیاں جمع کرنے کے لیے باقاعدہ ایک چار دیواری بنائی گئی
جیسا کہ فرمایا :
قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ
انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔
الصافات : 97
اس چار دیواری یا عمارت کا بلند اور بڑا ہونا تو ’’ بُنْيَانًا ‘‘ کے لفظ اور اس کی تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے، مگر اس کی پیمائش کسی معتبر ذریعے سے ہم تک نہیں پہنچی۔
*ابراهيم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا گیا*
پھر جب آگ خوب بھڑک اٹھی اور اس کی تپش چاروں طرف پھیل گئی تو انھوں نے منجنیق کے ذریعے سے یا جیسے بھی ہو سکا، ابراہیم علیہ السلام کو اس میں پھینک دیا
*آگ بھڑکانے اور بجھانے میں دو جانوروں کا کردار*
ام شریک رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور فرمایا :
[ وَكَانَ يَنْفُخُ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ]
’’یہ ابراہیم علیہ السلام پر پھونکیں مارتی تھی۔‘‘
[ بخاري : 3359 ]
محدث عبد الرزاق نے اپنی مصنف (8392) میں معمر عن الزہری عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنھا روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ كَانَتِ الضِّفْدَعُ تُطْفِئُ النَّارَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ وَكَانَ الْوَزَغُ يَنْفُخُ فِيْهِ فَنَهَی عَنْ قَتْلِ هٰذا وَ أَمَرَ بِقَتْلِ هٰذَا ]
’’مینڈک ابراہیم علیہ السلام سے آگ بجھاتے تھے اور چھپکلی اس میں پھونکیں مارتی تھی، سو انھیں قتل کرنے سے منع فرمایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔‘‘
*ابراهيم علیہ السلام نے آگ میں جانے کے بعد کن الفاظ میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا*
ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا آخری قول، جب انھیں آگ میں پھینکا گیا
’’حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ ‘‘ تھا
یعنی مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔
[ بخاري : 4564 ]
*اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: اے آگ! ٹھنڈی ہو جا*
اللہ تعالیٰ نے اسی وقت حکم دیا
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ
ہم نے کہا اے آگ! تو ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔
الأنبياء : 69
ہم نے حکم دیا کہ اے آگ! ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک ہو جا، مگر تکلیف دینے والی ٹھنڈک نہیں، بلکہ ایسی کہ سراسر سلامتی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ صرف ’’ بَرْدًا ‘‘ (سراسر ٹھنڈک) فرماتے تو شدید ٹھنڈک ابراہیم علیہ السلام برداشت نہ کر سکتے، اس لیے آگ کو ٹھنڈک کے ساتھ سلامتی والی بن جانے کا حکم دیا۔
*ابراهيم علیہ السلام کو بچا لیا گیا*
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَنَجَّيْنَاهُ
اور ہم نے اسے نجات دی۔
الأنبياء : 71
عنکبوت میں ہے :
فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ
تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا۔
عنکبوت : 24
*تمام تر سرمایہ اور حکومتی مشینری خرچ کرنے کے باوجود وہ لوگ انتہائی گھاٹے میں رہے*
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ
اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا ارادہ کیا توہم نے انھی کو انتہائی خسارے والے کر دیا۔
الأنبياء : 70
اور سورہ صافات میں ہے :
فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ
غرض انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انھی کو سب سے نیچا کر دیا۔
الصافات : 98
وہ خسارے والے اس طرح ہوئے کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی کسی بھی دلیل کا جواب نہ دے سکے جس کے ساتھ انھوں نے سورج، چاند اور ستاروں کو بے بس ثابت کیا، یا جس کے ساتھ انھوں نے بادشاہ کا بے اختیار ہونا ثابت کیا، یا بتوں کا معبود نہ ہونا ثابت کیا۔ پھر نہ ان سے بت توڑنے کا انتقام لے سکے اور نہ انھیں آگ میں جلا سکے، بلکہ وہ سب کچھ جو انھوں نے انھیں سزا دینے کے لیے تیار کیا تھا ان کے لیے معجزہ اور ان کی عظمتِ شان کا باعث بن گیا اور انتہائی خسارا یہ کہ اس واقعہ کے بعد اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا
*اللہ تعالیٰ چاہے تو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے*
فطرت کے عام قوانین کے برعکس معاملہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے
جیسا کہ پانی کی فطرت بہنا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو سمندر پر اپنی لاٹھی مارنے کا حکم دیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح اپنی جگہ کھڑا رہا، فرمایا :
« فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ »
[ الشعراء : 63 ]
’’پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔‘‘
ایسے ہی آگ کی فطرت جلانا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد وہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن گئی۔
اگر کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لے :
« اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ »
[ آل عمران : 47 ]
’’جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘
اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے آگ کو ’’ كُوْنِيْ ‘‘ (ہو جا) سے خطاب فرمایا، پھر آگ کی کیا مجال تھی کہ ٹھنڈی اور سلامتی والی نہ ہوتی۔ (ثنائی)
اگر کسی کو پھر بھی اصرار ہے کہ آگ کا کام جلانا ہی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھی ٹھنڈی نہیں ہو سکتی تو اسے قرآن مجید پر ایمان کے دعوے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
*اس واقعہ میں ہمارے لیے سبق*
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
عنکبوت :24
*سب سے پہلی نشانی*
ان نشانیوں میں سے سب سے پہلی نشانی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کرتا ہے اور جو جتنا مقرب ہو آزمائش اتنی ہی سخت ہوتی ہے۔
*دوسری نشانی*
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عام روٹین کے خلاف بھی کام کرنے پر خوب قادر ہے وہ جب چاہے چیزوں میں الٹ خاصیتیں پیدا کر دیتا ہے۔ پانی کا کام بہنا ہے، وہ اللہ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات کے لیے الگ الگ پہاڑوں کی شکل میں کھڑا ہو گیا۔ آگ کا کام جلانا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن گئی۔
*تیسری نشانی*
یہ کہ وہی مشرکین جنھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو پکڑا، باندھا اور آگ میں پھینک دیا،
آگ سے نکلنے کے بعد انھیں ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا سکے، حالانکہ کچھ مشکل نہ تھا کہ وہ انھیں قید کر دیتے یا قتل کر دیتے، مگر یہ اللہ تعالیٰ کا زبردست ہاتھ تھا جس کے زیر حفاظت وہ ان کا بال بیکا نہ کر سکے۔ الغرض کہ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو تمام اسباب ختم ہونے کے باوجود اپنے بندے کا بال بھی بیکا نہیں ہونے دیتا۔
نیز یہ واقعہ حق کی طرف دعوت اور اس پر استقامت کا عجیب و غریب واقعہ ہے۔ اس میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پوری امت مسلمہ کے لیے حق کی خاطر جان کی بازی لگا دینے کا سبق ہے
*آگ کے متعلق چند مشہور مگر بے سرو پا باتیں*
بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ
اس دن جو آگ بھی تھی بجھ گئی۔ یعنی جتنی آگیں تھیں سب ٹھنڈی ہو گئیں، چنانچہ کسی آگ نے ایک کھری تک نہیں پکائی۔
بعض کہتے ہیں آگ نے صرف ابراہیم علیہ السلام کو باندھنے والی رسیاں جلائیں۔
بعض نے کہا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا : ’’میں ان ایام جیسا خوش حال کبھی نہیں رہا جن دنوں میں آگ میں تھا۔‘‘
بعض نے کہا کہ انھیں آگ میں ڈالا گیا تو ان کی عمر سولہ (16) سال تھی۔بعض نے کہا چھبیس (26) برس کے تھے۔
اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ نمرود نے اپنے محل میں سے جھانکا تو دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام تخت پر ہیں اور سایوں کا فرشتہ ان کا دل لگا رہا ہے، تو اس نے کہا، تیرا رب بہت اچھا رب ہے، میں اس کے لیے چار ہزار گائیں قربانی کروں گا اور پھر اس نے ابراہیم علیہ السلام کو کچھ نہیں کہا۔
یہ سب اسرائیلیات اور سنی سنائی باتیں ہیں جنھیں تفسیر قرآن میں کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔
*اس واقعہ کو دیکھ کر لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔*
ابراہیم علیہ السلام جب آگ سے صحیح سلامت باہر آئے اور تو لوط علیہ السلام فوراً ہی ان پر ایمان لے آئے اور ان کے تابع فرمان ہو گئے، ان کے سوا کوئی اور ان پر ایمان نہیں لایا۔
فرمایا :
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ
تو لوط اس پر ایمان لے آیا
العنكبوت : 26
*آگ سے نکلنے کے بعد دوبارہ قوم کو نصیحت*
ابراہیم علیہ السلام نے آگ سے نکلنے کے بعد بھی قوم کو نصیحت ترک نہیں کی بلکہ سمجھایا
وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
عنکبوت : 25
کہ تمھارے ان بتوں کو شریک بنانے کی بنیاد کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں، محض ایک دوسرے کی دوستی کی وجہ سے تم نے انھیں شریک بنا رکھا ہے۔ یہ صرف اندھی تقلید، قومی مروّت و لحاظ اور باہمی تعلقات کا دباؤ ہے جس کی وجہ سے تم ان کی پرستش پر اڑے ہوئے ہو، مگر تمھاری یہ دوستی اور شرک و کفر پر اجماع و اتحاد صرف دنیا کی زندگی تک ہے۔پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے، تمھاری یہ دوستی شدید دشمنی میں بدل جائے گی اور تم سب ایک دوسرے کو لعنت کرو گے اور تمھارا ٹھکانا آگ ہی ہے۔
*تیسری قسم کے معبود یعنی بادشاہ وقت کا رد*
بادشاہ کے رب نہ ہونے کی دعوت ملاحظہ فرمائیں۔
*بادشاہ وقت کے ساتھ مناظرہ*
جب ابراہیم علیہ السلام نے قوم کے بت توڑ دیے تو لوگوں نے کہا کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو
اب ظاہر ہے کہ عوام جتنے بھی ہوں کسی کو سزا دینا تو حکومت کا کام ہے، اس لیے انھیں وقت کے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا، وہ بادشاہ اپنی سلطنت میں بت پرستی، ستارہ پرستی کو برداشت کرتا تھا، بلکہ اس کی پشت پناہی کرتا تھا، کیونکہ وہ خود بھی مشرک تھا اور اپنے رب ہونے کا بھی دعویدار تھا۔ اس موقع پر بادشاہ کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا
بادشاہ نے پوچھا :
’’تمھارا رب کون ہے؟‘‘
آپ نے فرمایا :
’’میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔‘‘
اس نے کہا :
’’میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔‘‘
جب ابراہیم علیہ السلام نے اس کے منہ سے اس دعویٰ کا اقرار کروا لیا کہ میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اب اس دعویٰ پر دوسری دلیل کی بنیاد رکھی کہ جب تم میں اتنی قوت ہے کہ تمھی سب کو پیدا کرتے ہو اور تمھی مارتے ہو تو اس کے مقابلے میں ایک معمولی سا کام کرکے دکھاؤ، یہ کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے، جب سارا اختیار تمھارے پاس ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھا دو، اس پر وہ بے ایمان حیرت زدہ ہو کر بالکل لاجواب ہو گیا
اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن میں یوں بیان کیا ہے :
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، اس لیے کہ اللہ نے اسے حکومت دی تھی، جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، اس نے کہا میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا پھر اللہ تو سورج کو مشرق سے لاتا ہے، پس تو اسے مغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا حیرت زدہ رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
البقرة : 258
*نمرود کے سر میں مچھر والا واقعہ*
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو نمرود اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا، اس پر بھی جب یہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو ان پر مچھروں کا عذاب نازل ہوا۔ یہ مچھر ان لوگوں کا تو سب خون پی گئے، گوشت اور چربی سب کھا گئے، خالی ہڈیاں زمین پر گر پڑیں، مگر نمرود کے دماغ میں ایک مچھر چڑھ گیا جس کے سبب سے اس کے سر پر ایک مدت تک مار پڑتی رہی، اس ذلت کے بعد پھر وہ بھی ہلاک ہو گیا۔
طبری نے یہ بات تابعی زید بن اسلم کے قول سے نقل کی ہے، جس کا اسرائیلی روایت ہونا ظاہر ہے، اس لیے اس پر کسی صورت یقین نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اسے قرآن کی تفسیر میں بیان کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ’’لا ریب کتاب‘‘ کی تفسیر بھی ’’لا ریب‘‘ ذریعے سے ثابت ہونا ضروری ہے۔
اس حکایت میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے کئی واعظ کئی سال تک اس مچھر کی وجہ سے نمرود کے سر پر جوتے مرواتے رہتے ہیں، حالانکہ مچھر بے چارے کی کل عمر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ مسلمان واعظین کی عجائب پسندی نے اس بات کو ایک مسلّمہ حقیقت بنا دیا ہے۔
*اللہ تعالیٰ نے لوط اور ابراہیم علیہما السلام کو لوگوں سے بچا کر ارض شام کی طرف نکال دیا*
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھا تھا اسی طرح ابراہیم اور لوط علیھما السلام دونوں کو ان ظالموں کے پنجے سے بحفاظت نکال کر شام کی طرف ہجرت کرنے کی آسانی عطا فرمائی۔ یہ بھی عظیم احسان تھا، کیونکہ وہاں سے ان کا نکلنا آسان نہ تھا۔
فرمایا :
وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ
اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سر زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔
الأنبياء : 71