11
جنت وہ مقام ہے جہاں نہ غم ہے، نہ تھکن، نہ کوئی دکھ — صرف راحت، سکون اور رب کی رحمت۔وہاں کے باغات ہمیشہ ہرے بھرے، دریا دودھ و شہد کے بہتے ہیں، اور فضا میں خوشبو بسی ہوتی ہے۔جنت کی بہاریں ان خوش نصیبوں کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا میں ایمان، صبر اور نیکی کا راستہ اختیار کیا۔اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنے نیک بندوں کے لیے انعام بنایا ہے، جہاں ابدی خوشیاں اور رب کی قربت حاصل ہوگی۔
مزید پڑھیںجنت کی بہاریں
12
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (لوگو!) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد ال نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بخوبی جاننے والا ہے۔ اللہ تعالی نے سب انبیاء کرام سے نبی ﷺ کی ختم نبوت اور آپ پر بحیثیت آخری نبی ایمان لانے کا عہد لیا
مزید پڑھیںختم نبوت پر جان بھی قربان ہے
13
وَحَاقَ بِالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ  اور خود فرعونیوں پر سخت عذاب آپڑا۔ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ  وہ صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہو گی (حکم ہو گا) فرعونیوں کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔ وضاحت: آل فرعون کو اس وقت عذاب ہو رہا ہے اور وہ قبروں میں ہیں اسی آیت میں ہے کہ قیامت کا عذاب اور بھی سخت ہے۔
مزید پڑھیںإثبات عذاب القبر
14
إِنَّ اللهَ يُدْفِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَانٍ كَفُورٍ ) بے شک اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے دشمنوں کو ہٹا دے گا، اللہ کسی دغاباز دو نا شکر گزار کو پسند نہیں کرتا ۔ أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ ) جن سے کافر لڑتے ہیں انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے ۔“ وضاحت: مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا تھا۔ مدینہ ہجرت ہوئی تو پھر بھی کفار مکہ بار بار جنگیں کرنے آتے رہے۔ ان آیات میں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کے ارادے خاک میں ملادے گا اور ساتھ مسلمانوں کو جنگ کی اور بدلہ لینے کی اجازت دے دی۔
مزید پڑھیںنعرہ تکبیر اللّٰہ اکبر
15
یہ کائنات حق و باطل اور ایمان و کفر کی بنا پر تقسیم ہے، اس کے علاوہ کوئی تقسیم نہیں۔ روز اول سے ہی حق و باطل، روح و بدن، ایمان اور کفر کا معرکہ شروع ہے۔ جس کی بنیاد پر حزب اللہ اور حزب الشیطان دو گروہ ہیں، ایک رحمان بندوں کی جماعت ہے اور دوسری طرف شیطان کی…
مزید پڑھیںنورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
16
  اگر ہم قرآن مجید اور احادیث میں بیان کردہ نصرت الہی کے اسباب پر عمل پیرا ہوں اور اپنے دینی فرائض کو بجا لائیں ، تو رب کعبہ کی قسم ! ہم مسلمان دنیا میں لیڈر اور کردار ادا کرنے والے بن جائیں۔ اگر ہم صدق دل ، اخلاص نیت اور عصری تقاضوں کے ہم آہنگ بحیثیت امت تیاری…
مزید پڑھیںنصرتِ الٰہی کے اسباب اور مظاہر
17
دنیا کی زندگی میں آسودگی ، امن وامان، اسلام کا نفاذ اور خلافت کا قیام ، اور آخرت کی زندگی میں کامیابی، نجات، فوز و فلاح اور ہمیشہ کے لیے جنت کی خوشخبری اس بات پر منحصر ہے کہ ایمان ، تقوی ، ربانی ہدایات ، تزکیہ نفس اور دین حق کے غلبہ کے لیے اجتماعی جدو جہد کی جائے۔…
مزید پڑھیںنجات کی راہ، ایمان اور عمل صالح
18
موجودہ حالات کے تناظر میں عقیدہ ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں ۔۔۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ مسلمان کے دل کی آواز ہے، اسے نہ روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی دبایا جا سکتا ہے، یہ عقیدہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کے ایمان اور عقیدہ کا لازمی حصہ ہے۔ اس پر جذباتی اور ایمانی طور پر اہل اسلام…
مزید پڑھیںموجودہ حالات کے تناظر میں عقیدہ ختم نبوت
19
تمهيد انسان کی عزت و حرمت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوالبشر سیدنا آدم عالی نام کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور ان میں روح پھونکی، جب کہ باقی مخلوقات کو کلمہ کن سے وجود بخشا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی عزت و حرمت کے لیے انھیں مسجود ملائکہ بنایا ، اپنے علم میں سے علم…
مزید پڑھیںمسلمان لاش کی تکریم، میڈیکل سائنس اور شریعت کا حکم
20
بلا شیمی (blasphemy) آئین پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (295) ہے، جسے عرف عام میں قانون توہین رسالت یا توہین مذہب کا قانون کہا جاتا ہے۔ یہ قانون 1986 میں قومی اسمبلی نے پاس کیا تھا، جس میں لکھا ہے کہ تو ہیں رسالت یا توہین مذہب کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے۔ بس یہی وہ بات…
مزید پڑھیںقانون توہین رسالت پر شبہات کی شرعی و قانونی حیثیت