03. عقیدہ ومنہج

کل خطبات: 64
اس کیٹگری سے متعلق تمام دستیاب خطبات نیچے ملاحظہ فرمائیں۔
11
اتباعِ سنت اسلام کی بنیادوں میں سے ایک اہم عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ سنتِ نبوی پر عمل کرنے سے ایمان مضبوط ہوتا ہے، عبادات درست ہوتی ہیں، اخلاق سنورتے ہیں اور انسان اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا حاصل کرتا ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنائے اور اسی کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔
مزید پڑھیںاتباع سنت کی اہمیت،فضیلت
12
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > ایمانیات > قدر وجبر
توکل علی اللہ، قضا و قدر پر ایمان اور صحیح عقیدہ ہر مومن کی ایمانی زندگی کی بنیاد ہیں۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ بندہ جائز اسباب اختیار کرے، پھر کامل اعتماد کے ساتھ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور ہر حال میں اس کے فیصلوں پر راضی رہے۔ قضا و قدر پر ایمان انسان کے دل میں صبر، اطمینان، شکر اور اللہ کی رضا پر اعتماد پیدا کرتا ہے، جو دنیا و آخرت کی کامیابی کا اہم ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیںتوکل علی اللہ، قضا و قدر اور مومن کا عقیدہ
13
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > توحید وشرک
عقیدۂ توحید اسلام کی بنیاد ہے، جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد معبود مانا جائے اور ہر قسم کے شرک و باطل عقائد سے بچا جائے۔ توہم پرستی انسان کے ایمان کو کمزور کرتی ہے اور اسے غیر حقیقی خیالات اور غلط تصورات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اسلام انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، قرآن و سنت کی رہنمائی اختیار کرے اور بدشگونی، وہم اور غیر اسلامی عقائد سے دور رہے۔
مزید پڑھیںعقیدہ توحید اور توہم پرستی
14
ماہِ صفر اسلامی کیلنڈر کا ایک اہم مہینہ ہے جس کے بارے میں بعض معاشروں میں نحوست اور بدشگونی کے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ اسلام نے ایسے باطل خیالات کی نفی کی ہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل، صحیح عقیدہ اور شریعت کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی دی ہے۔ ماہِ صفر کو بھی دیگر مہینوں کی طرح اللہ کی طرف سے مقرر کردہ وقت سمجھنا چاہیے اور ہر معاملے میں خیر و برکت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا چاہیے۔
مزید پڑھیںماہ صفر برکت و نحوست کا اسلامی تصور
15
16
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > ایمانیات > جنت وجہنم
جہنم کی ہولناکیاں قرآن و حدیث میں انسان کو نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ جہنم ایک ایسا مقام ہے جہاں نافرمان لوگ اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔ وہاں کا عذاب انتہائی سخت، دردناک اور ناقابلِ تصور ہوگا۔ جہنم کا ذکر انسان کو گناہوں سے بچنے، اللہ کی اطاعت اختیار کرنے اور آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
مزید پڑھیںجہنم کی ہولناکیاں
17
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > ایمانیات > جنت وجہنم
جہنم میں اہلِ جہنم کی حالت نہایت دردناک اور عبرت ناک ہوگی۔ قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جہنم عذاب کی ایسی جگہ ہے جہاں انسان اپنے اعمال کا بدلہ پائے گا۔ وہاں حسرت، پشیمانی، پیاس، تکلیف اور اللہ کی ناراضی کا سامنا ہوگا۔ یہ تذکرہ انسان کو گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
مزید پڑھیںجہنم میں اہل جہنم کی حالت زار
18
نجات کا واحد معیار وہی راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ حدیثِ مبارکہ «ما أنا عليه وأصحابي» اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کامیابی اور فلاح صرف قرآن و سنت اور فہمِ صحابہ کی پیروی میں ہے۔ جو شخص دین میں نئے عقائد و اعمال ایجاد کرنے کے بجائے نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا، وہی دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی اور نجات حاصل کرے گا
مزید پڑھیںنجات کا واحد معیار، ما أنا علیه وأصحابي
19
دنیا کی گرمی وقتی اور محدود ہے، مگر آخرت کا عذاب نہایت سخت اور دائمی ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ بار بار انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ وہ دنیا کی چند روزہ آسائشوں میں غفلت اختیار نہ کرے بلکہ اپنی آخرت کی کامیابی کی فکر کرے۔ دنیا کی گرمی انسان کو چند لمحوں کے لیے بے چین کرتی ہے، جبکہ جہنم کی آگ کا عذاب اس سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نیک اعمال، توبہ و استغفار اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائے تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔
مزید پڑھیںدنیا کی گرمی بمقابلہ آخرت کا عذاب
20
اسلام صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، چہرہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ گری کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان اعمال سے منع فرمایا اور مصیبت کے وقت صبر، دعا اور استغفار کی تلقین فرمائی۔ مسلمان کو چاہیے کہ غم اور مصیبت کے مواقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ حقیقی کامیابی سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور صبر و رضا میں ہے۔
مزید پڑھیںاسلام میں ماتم سینہ کوبی اور نوحہ گری کی ممانعت