11
ماہِ صفر اسلامی کیلنڈر کا ایک اہم مہینہ ہے جس کے بارے میں بعض معاشروں میں نحوست اور بدشگونی کے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ اسلام نے ایسے باطل خیالات کی نفی کی ہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل، صحیح عقیدہ اور شریعت کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی دی ہے۔ ماہِ صفر کو بھی دیگر مہینوں کی طرح اللہ کی طرف سے مقرر کردہ وقت سمجھنا چاہیے اور ہر معاملے میں خیر و برکت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا چاہیے۔
مزید پڑھیںماہ صفر برکت و نحوست کا اسلامی تصور
12
13
جہنم کی ہولناکیاں قرآن و حدیث میں انسان کو نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ جہنم ایک ایسا مقام ہے جہاں نافرمان لوگ اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔ وہاں کا عذاب انتہائی سخت، دردناک اور ناقابلِ تصور ہوگا۔ جہنم کا ذکر انسان کو گناہوں سے بچنے، اللہ کی اطاعت اختیار کرنے اور آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
مزید پڑھیںجہنم کی ہولناکیاں
14
جہنم میں اہلِ جہنم کی حالت نہایت دردناک اور عبرت ناک ہوگی۔ قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جہنم عذاب کی ایسی جگہ ہے جہاں انسان اپنے اعمال کا بدلہ پائے گا۔ وہاں حسرت، پشیمانی، پیاس، تکلیف اور اللہ کی ناراضی کا سامنا ہوگا۔ یہ تذکرہ انسان کو گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
مزید پڑھیںجہنم میں اہل جہنم کی حالت زار
15
نجات کا واحد معیار وہی راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ حدیثِ مبارکہ «ما أنا عليه وأصحابي» اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کامیابی اور فلاح صرف قرآن و سنت اور فہمِ صحابہ کی پیروی میں ہے۔ جو شخص دین میں نئے عقائد و اعمال ایجاد کرنے کے بجائے نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا، وہی دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی اور نجات حاصل کرے گا
مزید پڑھیںنجات کا واحد معیار، ما أنا علیه وأصحابي
16
دنیا کی گرمی وقتی اور محدود ہے، مگر آخرت کا عذاب نہایت سخت اور دائمی ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ بار بار انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ وہ دنیا کی چند روزہ آسائشوں میں غفلت اختیار نہ کرے بلکہ اپنی آخرت کی کامیابی کی فکر کرے۔ دنیا کی گرمی انسان کو چند لمحوں کے لیے بے چین کرتی ہے، جبکہ جہنم کی آگ کا عذاب اس سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نیک اعمال، توبہ و استغفار اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائے تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔
مزید پڑھیںدنیا کی گرمی بمقابلہ آخرت کا عذاب
17
اسلام صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، چہرہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ گری کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان اعمال سے منع فرمایا اور مصیبت کے وقت صبر، دعا اور استغفار کی تلقین فرمائی۔ مسلمان کو چاہیے کہ غم اور مصیبت کے مواقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ حقیقی کامیابی سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور صبر و رضا میں ہے۔
مزید پڑھیںاسلام میں ماتم سینہ کوبی اور نوحہ گری کی ممانعت
18
شرکِ اصغر وہ باریک اور پوشیدہ قسم کا شرک ہے جو بظاہر انسان کے عقیدے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا مگر اس کے اعمال کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کی عام صورتوں میں ریاکاری (دکھاوا)، غیر اللہ کی قسم کھانا، یا کسی عمل کو اللہ کے سوا کسی اور کی رضا کے لیے کرنا شامل ہے۔ اس کی تباہ کاریاں یہ ہیں کہ یہ نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، دل میں اخلاص کو ختم کرتا ہے اور انسان کو آہستہ آہستہ شرکِ اکبر کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اس سے بچنے اور ہر عمل کو خالصتاً اللہ کے لیے کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
مزید پڑھیںشرک اصغر کی صورتیں اور تباہ کاریاں
19
جہنم سے نجات کے اعمال میں سب سے اہم ایمان کی مضبوطی، اخلاص کے ساتھ عبادات کی ادائیگی اور گناہوں سے سچی توبہ شامل ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور صدقہ جیسے اعمال انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں جبکہ سچائی، عدل، اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی نجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تلاوت، ذکرِ الٰہی اور اللہ سے خوف و امید کے ساتھ دعا کرنا دل کو پاک کرتا ہے اور انسان کو جہنم کی آگ سے بچنے کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔
مزید پڑھیںجہنم سے نجات کے اعمال
20
بسنت برصغیر کا ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو روایات اور موسمی رسومات سے ملتی ہیں، بعد میں یہ ایک سماجی اور ثقافتی سرگرمی کی صورت اختیار کر گیا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے ایسے تہواروں میں شرکت جائز نہیں جو غیر مسلم مذاہب سے مخصوص ہوں یا جن کی بنیاد مذہبی و غیر اسلامی عقائد پر ہو، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی جداگانہ تہذیب اور دینی تشخص قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شریعت کی رو سے مسلمانوں کے لیے صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی جیسے مقررہ تہوار مشروع ہیں، لہٰذا بسنت کو تاریخی اور شرعی تناظر میں ایک غیر اسلامی تہوار قرار دیا جاتا ہے جس سے احتراز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے
مزید پڑھیںبسنت ایک غیر اسلامی تہوار(تاریخی اور شریعی حیثیت کے تناظرمیں)