1
2
3
ماحولیاتی آلودگی کا تدارک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس طرح ممکن ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ سمجھتے ہوئے زمین اور اس کی نعمتوں کی حفاظت کرے۔ اسلام صفائی اور طہارت پر بہت زور دیتا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے راستوں اور عوامی مقامات سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسراف سے منع کیا گیا ہے، اس لیے وسائل کا بے جا استعمال آلودگی کا سبب بننے کے بجائے اعتدال اور بچت کے اصول اپنانے چاہییں۔ درخت لگانا، پانی اور ہوا کو آلودگی سے بچانا اور مخلوقِ خدا کو نقصان نہ پہنچانا اسلامی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو ایک صاف، صحت مند اور متوازن ماحول قائم کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںماحولیاتی آلودگی کاتدراک کیسے ممکن ہے؟اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
4
نیا سال آنا دراصل خوشی کا نہیں بلکہ سوچ اور خود احتسابی کا پیغام ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال اور کم ہو جاتا ہے۔ وقت وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا، اس لیے عقل مند وہی ہے جو ہر نئے سال کو اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی نیک اعمال، تقویٰ اور اللہ کی رضا میں ہے۔ جو شخص گزرے ہوئے وقت سے سبق لے کر آنے والے دنوں کو بہتر بنا لے، وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے۔
مزید پڑھیںنیا سال عمر ایک سال اور کم ہو گئی
5
6
7
8
اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ ریاست کے استحکام، عدل و انصاف، اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بنیادی شرط ہے۔ نظم و ضبط کے بغیر معاشرتی نظام بکھرتا ہے اور معاشرے میں فساد، بدامنی اور ناانصافی پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عدل، مساوات اور ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے، اور ہر شہری اور حکمران پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے انجام دے۔ نظم و ضبط کی بدولت معاشرہ منظم، پرسکون اور ترقی یافتہ رہتا ہے، اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے امن و سکون میں زندگی گزار سکتے ہیں۔
مزید پڑھیںاسلامی ریاست میں نظم وضبط کی اہمیت
9
10