21
دنیا کی چمک دمک اور ظاہری آسائشیں انسان کو فریب میں مبتلا کر دیتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی وقعت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اگر دنیا کی اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت ہوتی، تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔”یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت میں نہیں بلکہ ایمان، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری میں ہے۔دنیا کی محبت دل سے نکال کر جب بندہ اللہ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے تو وہ حقیقی سکون پا لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا کو عارضی سمجھ کر اپنی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی بنائیں۔
مزید پڑھیںدنیا کی حیثیت مچھر کے پر جتنی بھی نہیں
22
23
کسی بھی قوم ، معاشرے اور امت کے لیے ایمان، اتحاد اور تنظیم سازی، یہ تینوں اصول کامیابی کی کنجی، ترقی کے ضامن اور عروج کی بنیاد ہیں۔ یہ تین لفظ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں ایمان کے مقابلے کفرو شرک، اتحاد و اتفاق کے مقابلے میں تفرقہ بازی اور تنظیم سازی کے مقابلے میں انتشار اور بکھراؤ سے منع کیا گیا ہے۔ بطور مسلمان ہماری شناخت ایمان اسلامی روایات اور آپس کے مشورہ سے متحد ہو کر رہنا ہے، اس میں برکت، عزت، احترام باہمی اور مسلمانوں کا اتحاد ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںترقی کی ضمانت ایمان، اتحاد اور تنظیم
24
25
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ مجاہد ، عالم دین، قاری قرآن اور سخی میں ریا کاری اور فخر آجائے تو اعمال برباد ہو جاتے ہیں 1089 / 1905 صحیح مسلم
مزید پڑھیںتکبر ! عبادات میں بھی برا دنیا داری میں بھی برا
26
بد دعا بعض اوقات مسلمانوں کی کفار کے خلاف ہوتی ہے۔ ان میں انبیاء کرام اور عام لوگوں کی بد دعا بھی شامل ہوتی ہے جس پر کفار کی پکڑ ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات بد دعا کرنے والا مسلمان ہوتا ہے اور کبھی اپنے خلاف کبھی اپنے مال اور اولاد کے خلاف اور کبھی اپنے دوست احباب کے خلاف کرتا ہے کبھی ماں اپنی اولاد کے خلاف بد دعا کر دیتی ہے جس سے اولاد پر سختیاں آجاتی ہیں اس لئے بولنے سے پہلے بہت دفعہ تو لنا چاہیئے ۔
مزید پڑھیںبد دعائیں اور ان پر پکڑ
27
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا استغفار کر و رحمت کی بارش آئے گی۔ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهَ كَانَ غَفَّارًا 10 پس میں نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا 11 وہ آسمان سے تم پر (موسلا دھار ) مینہ برسائے گا۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا 12 اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنادے گا۔
مزید پڑھیںبارشیں کبھی رحمت کبھی عذاب
28
29
اتحاد، اتفاق اور اجتماع امت ، اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، اور دین اسلام کا سب سے اہم مقصد بھی یہی ہے کہ اس میں باہمی محبت ، قوت، نظم وضبط اور غلبہ دین کی بقا ہے۔ اسی کے ذریعے دین قائم ہوتا ہے اور دنیا تمام فتنوں سے محفوظ رہتی ہے، آسمانی برکات کا نزول ہوتا ہے اور نعمتیں مکمل ہوتی ہیں۔ :
مزید پڑھیںاتحاد کی نعمت اور اس کی حفاظت کے اسباب
30