11
نیا سال آنا دراصل خوشی کا نہیں بلکہ سوچ اور خود احتسابی کا پیغام ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال اور کم ہو جاتا ہے۔ وقت وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا، اس لیے عقل مند وہی ہے جو ہر نئے سال کو اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی نیک اعمال، تقویٰ اور اللہ کی رضا میں ہے۔ جو شخص گزرے ہوئے وقت سے سبق لے کر آنے والے دنوں کو بہتر بنا لے، وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے۔
مزید پڑھیںنیا سال عمر ایک سال اور کم ہو گئی
12
13
14
15
خاموشی اور کم گوئی انسان کے کردار میں وقار، سنجیدگی اور حکمت پیدا کرتی ہیں۔ کم بولنے والا شخص نہ صرف غیر ضروری بحث و تکرار سے محفوظ رہتا ہے بلکہ اس کی بات کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ خاموشی انسان کو مشاہدہ، غور و فکر اور خود احتسابی کا موقع دیتی ہے، جس سے شخصیت میں نکھار آتا ہے۔ معاشرتی طور پر بھی کم گوئی امن، احترام اور مثبت رویوں کو فروغ دیتی ہے کیونکہ ایسا شخص دوسروں کی بات بہتر طریقے سے سنتا اور سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاموشی کو ہمیشہ عقل، بردباری اور مضبوط اخلاق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیںخاموشی اور کم گوئی فضیلت،اہمیت اور اس کے معاشرتی فوائد و ثمرات
16
17
رویوں کی سختی انسان کی شخصیت کو محدود کر دیتی ہے۔ جب کوئی شخص ہر بات میں اپنی ہی رائے کو درست سمجھتا ہے تو نہ صرف رشتوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ بات چیت اور سمجھنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ سخت مزاجی انسان کو نئے خیالات قبول کرنے سے روکتی ہے، جس کے باعث ترقی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر ذہنی دباؤ، غصے اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ وہ تبدیلی کو قبول نہیں کر پاتے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے لچک ضروری ہے، اور سخت رویہ انسان کو خوشی، سکون اور کامیابی دونوں سے دور لے جاتا ہے۔
مزید پڑھیںرویوں کی سختی کے نقصانات
18
19
20
ظالم اللہ کی پکڑ سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ دنیا میں اگر اسے مہلت مل بھی جائے تو یہ مہلت دراصل آزمائش ہوتی ہے، معافی نہیں۔ جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ اچانک، بے حد طاقتور اور ناقابلِ فرار ہوتی ہے۔ قرآن میں بارہا ظالموں کے انجام کا تذکرہ ہے کہ اللہ دیر کرتا ہے مگر اندھیر نہیں کرتا۔ انسان کا ظلم جتنا بھی بڑا ہو، اللہ کی عدالت اس سے کہیں زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ ظلم کے مقابلے میں اللہ راستبازوں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالم کا انجام ہمیشہ عبرت بن کر سامنے آتا ہے۔
مزید پڑھیںظالم اللّٰہ کی پکڑ میں