31
32
اسلام ہمیں صرف نیکی کرنے کا نہیں بلکہ نیکی کو ضائع ہونے سے بچانے کا بھی درس دیتا ہے۔ بعض اوقات انسان بہت سے نیک اعمال کرتا ہے لیکن ان کے ساتھ ریاکاری، تکبر، حسد، یا دوسروں کو ایذا دینے جیسے گناہوں کی آمیزش اس کے تمام اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو "خاسرین” یعنی نقصان اٹھانے والے قرار دیا ہے، جو دنیا میں محنت کرتے ہیں مگر آخرت میں ان کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔عمل کی قبولیت کا دار و مدار اخلاص اور تقویٰ پر ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں اور اپنے دل کو ریا، کبر اور حسد سے پاک رکھیں تاکہ ہمارے اعمال بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوں اور خسارے سے محفوظ رہیں۔
مزید پڑھیںوہ اعمال جن میں خسارہ اور عملوں کی بربادی ہے
33
34
35
شعبان میں کثرت سے روزوں کا بیان : صحیح مسلم حدیث نمبر 1156 / 2719 میں ہے: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَن صِيَامٍ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِن شَهْرٍ فَطْ ، أَكْثَرَ مِن صِيَامِهِ مِن شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعَبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا. حضرت عائشہ ان سے نبی اکرم علی ٹیم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا : آپ روزے رکھتے تھے حتی کہ ہم کہتے : آپ روزے پہ روزے رکھتے جا رہے ہیں۔ اور آپ افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کر دیتے حتی کہ ہم کہتے : آپ مسلسل افطار کر رہے ہیں، کہا: جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے ہوں، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔
مزید پڑھیںماہ شعبان
36
لوگوں کی کم علمی کی بناء پر ہمارے معاشرے میں شرک و بدعت زیادہ پھیل رہے ہیں۔ خصوصی طور پر رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی بہت سے امور شروع ہو جاتے ہیں جن کا شریعت مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مثلاً : رجب کی پہلی شب جمعہ کو صلاۃ الرغائب پڑھی جاتی ہے، جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح 26 رجب اور ستائیسویں شب معراج کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسراء اور معراج تو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے مگر یہ کہ کیا معراج کا واقعہ 26 رجب کو پیش آیا؟ اس کی کوئی پکی روایت نہیں ہے۔ پھر اگلے دن روزہ رکھنے کا بھی شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔
مزید پڑھیںسنت کی پیروی اور بدعات کا رد
37
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (لوگو!) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد ال نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بخوبی جاننے والا ہے۔ اللہ تعالی نے سب انبیاء کرام سے نبی ﷺ کی ختم نبوت اور آپ پر بحیثیت آخری نبی ایمان لانے کا عہد لیا
مزید پڑھیںختم نبوت پر جان بھی قربان ہے
38
حج کے روحانی معاشی اور معاشرتی فوائد  إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ  بے شک لوگوں کے واسطے جو سب سے پہلا گھر مقرر ہوا یہی ہے جو مکہ میں برکت والا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے راہ نما ہے۔ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى الناس حج بے آیات بینات میں سے مقام ابراہیم ہے
مزید پڑھیںحج کی فضیلت اور فوائد و مقاصد
39
40
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ مجاہد ، عالم دین، قاری قرآن اور سخی میں ریا کاری اور فخر آجائے تو اعمال برباد ہو جاتے ہیں 1089 / 1905 صحیح مسلم
مزید پڑھیںتکبر ! عبادات میں بھی برا دنیا داری میں بھی برا