کارخیر ٹرسٹ، لاہور

کارخیر ٹرسٹ، لاہور

کل مطبوعہ خطبات: 72
اس اشاعتی ادارے کا تعارف جلد فراہم کر دیا جائے گا۔
21
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
آیت "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی شان و مرتبہ کو بلند فرمایا ہے اور دنیا و آخرت میں آپ کا ذکر بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی عظمت اور مقام نہ صرف مخلوق میں بلند ہے بلکہ اللہ کی ذات کے نزدیک بھی آپ کی یاد اور شان ہمیشہ بلند رہے گی۔ ہمیں اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق اور سیرت کو اپنانا ہر مومن کے لیے باعث عزت اور برکت ہے، کیونکہ آپ کا ذکر اور مقام صرف عبادت، اتباع اور محبت کے ذریعے ہی ہمارے دلوں میں بھی بلند ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںورفعنا لك ذكرك
22
  • Post category: 10. اسلام اور تصوف > تزکیہ نفس > آداب واخلاق
آیت "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کی عظمت کو بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ بلند ترین، کامل اور بے مثال کردار کے حامل ہیں۔ آپ کا حلم، صبر، شفقت، عدل، تواضع، صدق، امانت اور عفو و درگزر وہ اوصاف تھے جن کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی اعلیٰ اخلاق میں ہے اور مومن کی خوبصورتی اس کے کردار سے پہچانی جاتی ہے، اس لیے جو شخص نبی ﷺ کے اخلاق کو اپناتا ہے وہ اللہ کی قربت اور لوگوں کی محبت دونوں پاتا ہے۔
مزید پڑھیںوَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيم
23
24
مومن کا مرنے کے بعد کا سفر اللہ کی قدرت اور رحمت کا روشن مظہر ہے۔ جیسے ہی مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس کی روح قبر کی جانب روانہ ہوتی ہے، جہاں اسے اس کے اعمال کے مطابق سکون یا سختی محسوس ہوتی ہے۔ مومن کی قبر میں راحت اور نور ہوتا ہے، اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور اپنے اچھے اعمال کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ پھر اس کا راستہ جنت کی جانب کھلتا ہے، جہاں اللہ کی رضا اور نعمتیں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اس پورے سفر میں مومن کے ایمان، نیک اعمال اور صبر کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے، جو اسے جنت کی حلاوت اور امن تک پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیںمومن کا مرنے سے جنت تک کا سفر
25
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
اسلام میں نبی کریم ﷺ کے معجزات اور نشانیوں کا بڑا مقام ہے، جنہوں نے لوگوں کو اللہ کی قدرت اور حقانیت کا یقین دلانے کے لیے ظاہر کیے۔ ان میں چاند کے دو ٹکڑوں کا واقعہ بھی شامل ہے، جو ایک عظیم نبوی کرامت کے طور پر مشہور ہے۔ یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر محیط ہے اور نبی ﷺ کی صداقت کی علامت ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معجزات کو ایمان کی بنیاد کے طور پر سمجھے، ان میں شک نہ کرے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرے، کیونکہ یہ کرامات اللہ کی قدرت اور نبی ﷺ کی رسالت کی نشانی ہیں۔
مزید پڑھیںمعجزات نشانیاں اور چاند کے دو ٹکڑے
26
ماہ صفر کے حوالے سے بدشگونی، نحوست یا کسی قسم کی توہم پرستی بالکل بے بنیاد ہیں اور اسلامی تعلیمات میں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ اسلام میں اللہ پر توکل اور نیک اعمال پر یقین رکھنے کو ترجیح دی گئی ہے، نہ کہ نجومیوں، جادو ٹونے یا خرافات پر۔ ماہ صفر یا کسی اور مہینے کو بدقسمتی یا نحوست سے جوڑنا غلط فہمی اور توہم پرستی ہے، جس سے انسان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے، اللہ کی رضا کے لیے دعا کرے، اور کسی بھی طرح کی بدشگونی یا جادو ٹونے پر یقین نہ کرے۔
مزید پڑھیںماہ صفر بد شگونیوں نحوستوں نجومیوں اور جادو ٹونے کا رد
27
28
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > توحید وشرک
اسلام میں عقیدۂ توحید بنیادی اساس ہے، اور ہر وہ نظریہ جو اللہ کی وحدانیت سے ہٹ کر ہو، اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآن کے مطابق اللہ ایک ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اُس جیسا کوئی ہے؛ اسی لیے مسلمان تثلیث کے تصور کو دین کے اصولِ توحید کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اسلام میں عبادت صرف اللہ کے لیے خاص کی گئی ہے، اسی لیے مسلمان ایسے عقائد سے دور رہنے کی تعلیم پاتے ہیں جو وحدانیت کے تصور کے خلاف ہوں۔ مسلمانوں کے نزدیک ایمان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ توحید کو خالص رکھا جائے اور دین کے اصل پیغام پر قائم رہا جائے۔
مزید پڑھیںکرسمَس اور تثلیث کفریہ عقیدہ ہے
29
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > توحید وشرک
کچا عقیدہ انسان کو کمزور بنیاد والے گھر کی طرح بنا دیتا ہے، جو معمولی سی آندھی میں بھی لرزنے لگتا ہے۔ جب یقین علم کے بغیر ہو تو ہر نئی بات اس پر اثر ڈالتی ہے اور انسان کا راستہ بدل جاتا ہے۔ کچے عقیدے والے لوگ دوسروں کے الفاظ، ماحول کے دباؤ اور بے بنیاد باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر وہ مضبوطی نہیں ہوتی جو سچائی پر جمائے رکھ سکے۔ عقیدے میں پختگی تب آتی ہے جب انسان سمجھ بوجھ کے ساتھ چلتا ہے، سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور اپنے ایمان کو دلیل کی بنیاد پر مضبوط بناتا ہے۔ جو لوگ اپنے عقیدے کو علم کی روشنی سے سنوارتے ہیں، وہی حالات کے طوفان میں بھی قائم رہتے ہیں۔ کچے عقیدے کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ انسان فیصلہ تو کرتا ہے، مگر خوف اور شکوک اسے پیچھے کھینچتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیںکچے عقیدے کی باتیں
30
غدیر خم کا واقعہ اسلام کی تاریخ میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے، جہاں نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو حضرت علیؓ کی ولایت اور اہلِ بیت کی عظمت سے آگاہ فرمایا۔ اس دن آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ "من کنت مولاہ فهذا علی مولاہ”، یعنی جو میرا دوست اور رہنما ہے، وہ علیؓ کا بھی دوست اور رہنما ہے۔ اہلِ بیت کی فضیلت قرآن و حدیث میں بار بار بیان ہوئی ہے، اور انہیں پیغمبر ﷺ کی شفاعت، قرب اور امت کی رہنمائی کا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اہلِ بیت کے احترام اور محبت میں ایمان کی تکمیل مضمر ہے، اور ان کے فضل اور قرب سے دنیا و آخرت میں برکت حاصل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیںغدیر خم کی تفصیل اور اہل بیت کے فضائل