کارخیر ٹرسٹ، لاہور

کارخیر ٹرسٹ، لاہور

کل مطبوعہ خطبات: 72
اس اشاعتی ادارے کا تعارف جلد فراہم کر دیا جائے گا۔
11
12
  • Post category: 07. اجتماعی نظام > معاشرتی نظام > اصلاح معاشرہ
الولاء والبراء اسلامی عقیدے کا ایک اہم اصول ہے، جس کا مطلب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محبت کرنا اور اسی کی خاطر برائی، کفر اور گناہ سے نفرت رکھنا ہے۔ مومن کی دوستی اور محبت کا معیار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہوتی ہے، جبکہ وہ ہر اس چیز سے بیزاری اختیار کرتا ہے جو اللہ کے دین کے خلاف ہو۔ یہی صفت ایمان کو مضبوط کرتی اور بندے کو تقویٰ اور اخلاص کی راہ پر قائم رکھتی ہے۔
مزید پڑھیںالولاء والبراء، اللہ کی خاطر محبت الله کی خاطر عداوت
13
14
15
دنیا کی گرمی وقتی اور محدود ہے، مگر آخرت کا عذاب نہایت سخت اور دائمی ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ بار بار انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ وہ دنیا کی چند روزہ آسائشوں میں غفلت اختیار نہ کرے بلکہ اپنی آخرت کی کامیابی کی فکر کرے۔ دنیا کی گرمی انسان کو چند لمحوں کے لیے بے چین کرتی ہے، جبکہ جہنم کی آگ کا عذاب اس سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نیک اعمال، توبہ و استغفار اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائے تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔
مزید پڑھیںدنیا کی گرمی بمقابلہ آخرت کا عذاب
16
اسلام صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، چہرہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ گری کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان اعمال سے منع فرمایا اور مصیبت کے وقت صبر، دعا اور استغفار کی تلقین فرمائی۔ مسلمان کو چاہیے کہ غم اور مصیبت کے مواقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ حقیقی کامیابی سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور صبر و رضا میں ہے۔
مزید پڑھیںاسلام میں ماتم سینہ کوبی اور نوحہ گری کی ممانعت
17
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کی وہ مقدس جماعت ہیں جنہیں Muhammad کی صحبت نصیب ہوئی اور جنہوں نے دینِ اسلام کی حفاظت، اشاعت اور سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں ان کے فضائل اور عظیم مقام کا ذکر موجود ہے۔ صحابۂ کرامؓ ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اطاعتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ تھے، اسی لیے امتِ مسلمہ کے لیے ان کی سیرت مشعلِ راہ اور ان سے محبت ایمان کا اہم تقاضا سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیںشان صحابہ مقام صحابہ
18
19
  • Post category: 07. اجتماعی نظام > معاشرتی نظام > اصلاح معاشرہ
نیا سال آنا دراصل خوشی کا نہیں بلکہ سوچ اور خود احتسابی کا پیغام ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال اور کم ہو جاتا ہے۔ وقت وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا، اس لیے عقل مند وہی ہے جو ہر نئے سال کو اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی نیک اعمال، تقویٰ اور اللہ کی رضا میں ہے۔ جو شخص گزرے ہوئے وقت سے سبق لے کر آنے والے دنوں کو بہتر بنا لے، وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے۔
مزید پڑھیںنیا سال عمر ایک سال اور کم ہو گئی
20
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
آیت "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی ہدایت اور بعثت کو تمام انسانیت اور مخلوقات کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق، اور سیرت ہر دل میں رحمت، ہدایت اور سکون لانے کا ذریعہ ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی شفقت، انصاف، صبر اور محبت کا مظہر ہے، اور اسی وجہ سے آپ کی رسالت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے لیے رحمت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی اتباع اور تعلیمات پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں برکت اور ہدایت کا باعث ہے۔
مزید پڑھیںوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ