1
موجودہ دور میں مادیت پرستی کے غلبے نے انسان کو دنیاوی آسائشات کا اسیر بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں ایمان کی حلاوت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ جب دل مال، شہرت اور خواہشات میں الجھ جائے تو روحانی سکون اور اللہ سے قربت متاثر ہوتی ہے۔ اسلام انسان کو توازن کی تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کو ضرورت کے طور پر اختیار کیا جائے نہ کہ مقصدِ زندگی بنایا جائے۔ ایمان کی حلاوت ذکرِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ اور آخرت کی فکر سے حاصل ہوتی ہے، اور یہی چیز مادیت پرستی کے اندھیروں سے نجات کا راستہ ہے۔
مزید پڑھیںمادیت پرستی کا غلبہ اور ایمان کی حلاوت
2
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں، جن کی ولادت حضرت مریم علیہا السلام سے بغیر باپ کے معجزانہ طور پر ہوئی۔ قرآنِ مجید میں آپ کو کلمۃُ اللہ اور روحٌ منہ کہا گیا ہے، اور آپ کی دعوت خالص توحید، عبادتِ الٰہی اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی۔ عیسائیت میں بعد ازاں تحریف کے نتیجے میں حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا یا خدا مان لیا گیا، جو اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح کرسمس کو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے طور پر منانا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی سنتِ نبویؐ سے، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام سکھاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ واحد کے لیے خاص قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کا تعارف، عیسائیت کی تعلیمات اور کرسمس کا رد
3
مومن کا مرنے کے بعد کا سفر اللہ کی قدرت اور رحمت کا روشن مظہر ہے۔ جیسے ہی مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس کی روح قبر کی جانب روانہ ہوتی ہے، جہاں اسے اس کے اعمال کے مطابق سکون یا سختی محسوس ہوتی ہے۔ مومن کی قبر میں راحت اور نور ہوتا ہے، اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور اپنے اچھے اعمال کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ پھر اس کا راستہ جنت کی جانب کھلتا ہے، جہاں اللہ کی رضا اور نعمتیں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اس پورے سفر میں مومن کے ایمان، نیک اعمال اور صبر کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے، جو اسے جنت کی حلاوت اور امن تک پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیںمومن کا مرنے سے جنت تک کا سفر
4
ماہ صفر کے حوالے سے بدشگونی، نحوست یا کسی قسم کی توہم پرستی بالکل بے بنیاد ہیں اور اسلامی تعلیمات میں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ اسلام میں اللہ پر توکل اور نیک اعمال پر یقین رکھنے کو ترجیح دی گئی ہے، نہ کہ نجومیوں، جادو ٹونے یا خرافات پر۔ ماہ صفر یا کسی اور مہینے کو بدقسمتی یا نحوست سے جوڑنا غلط فہمی اور توہم پرستی ہے، جس سے انسان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے، اللہ کی رضا کے لیے دعا کرے، اور کسی بھی طرح کی بدشگونی یا جادو ٹونے پر یقین نہ کرے۔
مزید پڑھیںماہ صفر بد شگونیوں نحوستوں نجومیوں اور جادو ٹونے کا رد
5
اسلام میں عقیدۂ توحید بنیادی اساس ہے، اور ہر وہ نظریہ جو اللہ کی وحدانیت سے ہٹ کر ہو، اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآن کے مطابق اللہ ایک ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اُس جیسا کوئی ہے؛ اسی لیے مسلمان تثلیث کے تصور کو دین کے اصولِ توحید کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اسلام میں عبادت صرف اللہ کے لیے خاص کی گئی ہے، اسی لیے مسلمان ایسے عقائد سے دور رہنے کی تعلیم پاتے ہیں جو وحدانیت کے تصور کے خلاف ہوں۔ مسلمانوں کے نزدیک ایمان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ توحید کو خالص رکھا جائے اور دین کے اصل پیغام پر قائم رہا جائے۔
مزید پڑھیںکرسمَس اور تثلیث کفریہ عقیدہ ہے
6
کچا عقیدہ انسان کو کمزور بنیاد والے گھر کی طرح بنا دیتا ہے، جو معمولی سی آندھی میں بھی لرزنے لگتا ہے۔ جب یقین علم کے بغیر ہو تو ہر نئی بات اس پر اثر ڈالتی ہے اور انسان کا راستہ بدل جاتا ہے۔ کچے عقیدے والے لوگ دوسروں کے الفاظ، ماحول کے دباؤ اور بے بنیاد باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر وہ مضبوطی نہیں ہوتی جو سچائی پر جمائے رکھ سکے۔ عقیدے میں پختگی تب آتی ہے جب انسان سمجھ بوجھ کے ساتھ چلتا ہے، سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور اپنے ایمان کو دلیل کی بنیاد پر مضبوط بناتا ہے۔ جو لوگ اپنے عقیدے کو علم کی روشنی سے سنوارتے ہیں، وہی حالات کے طوفان میں بھی قائم رہتے ہیں۔ کچے عقیدے کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ انسان فیصلہ تو کرتا ہے، مگر خوف اور شکوک اسے پیچھے کھینچتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیںکچے عقیدے کی باتیں
7
ایامِ فاطمیہ کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر میں تاریخی اور مذہبی حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ان ایام کا تعلق حضرت فاطمہؓ کی وفات کے واقعات اور ان سے منسوب روایات سے جوڑا جاتا ہے، مگر ان کی تاریخی تعیین اور تفصیلات میں اہلِ علم کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔ اسی وجہ سے بعض الزامات اور اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں۔ اہلِ تحقیق کے نزدیک درست طریقہ یہ ہے کہ ایسے حساس موضوعات کو مستند تاریخی مصادر، غیر جانب دار تحقیق اور باوقار مکالمے کی روشنی میں دیکھا جائے۔ الزامات کی تردید اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب دلیل، عدل اور احترام کو بنیاد بنایا جائے، تاکہ امت میں انتشار کے بجائے فہم، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ ملے۔
مزید پڑھیںایام فاطمیہ کی حقیقت اور الزامات کی تردید
8
جنت وہ مقام ہے جہاں نہ غم ہے، نہ تھکن، نہ کوئی دکھ — صرف راحت، سکون اور رب کی رحمت۔وہاں کے باغات ہمیشہ ہرے بھرے، دریا دودھ و شہد کے بہتے ہیں، اور فضا میں خوشبو بسی ہوتی ہے۔جنت کی بہاریں ان خوش نصیبوں کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا میں ایمان، صبر اور نیکی کا راستہ اختیار کیا۔اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنے نیک بندوں کے لیے انعام بنایا ہے، جہاں ابدی خوشیاں اور رب کی قربت حاصل ہوگی۔
مزید پڑھیںجنت کی بہاریں
9
10
لوگوں کی کم علمی کی بناء پر ہمارے معاشرے میں شرک و بدعت زیادہ پھیل رہے ہیں۔ خصوصی طور پر رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی بہت سے امور شروع ہو جاتے ہیں جن کا شریعت مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مثلاً : رجب کی پہلی شب جمعہ کو صلاۃ الرغائب پڑھی جاتی ہے، جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح 26 رجب اور ستائیسویں شب معراج کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسراء اور معراج تو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے مگر یہ کہ کیا معراج کا واقعہ 26 رجب کو پیش آیا؟ اس کی کوئی پکی روایت نہیں ہے۔ پھر اگلے دن روزہ رکھنے کا بھی شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔
مزید پڑھیںسنت کی پیروی اور بدعات کا رد