1
موجودہ دور میں مادیت پرستی کے غلبے نے انسان کو دنیاوی آسائشات کا اسیر بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں ایمان کی حلاوت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ جب دل مال، شہرت اور خواہشات میں الجھ جائے تو روحانی سکون اور اللہ سے قربت متاثر ہوتی ہے۔ اسلام انسان کو توازن کی تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کو ضرورت کے طور پر اختیار کیا جائے نہ کہ مقصدِ زندگی بنایا جائے۔ ایمان کی حلاوت ذکرِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ اور آخرت کی فکر سے حاصل ہوتی ہے، اور یہی چیز مادیت پرستی کے اندھیروں سے نجات کا راستہ ہے۔
مزید پڑھیںمادیت پرستی کا غلبہ اور ایمان کی حلاوت
2
مومن کا مرنے کے بعد کا سفر اللہ کی قدرت اور رحمت کا روشن مظہر ہے۔ جیسے ہی مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس کی روح قبر کی جانب روانہ ہوتی ہے، جہاں اسے اس کے اعمال کے مطابق سکون یا سختی محسوس ہوتی ہے۔ مومن کی قبر میں راحت اور نور ہوتا ہے، اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور اپنے اچھے اعمال کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ پھر اس کا راستہ جنت کی جانب کھلتا ہے، جہاں اللہ کی رضا اور نعمتیں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اس پورے سفر میں مومن کے ایمان، نیک اعمال اور صبر کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے، جو اسے جنت کی حلاوت اور امن تک پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیںمومن کا مرنے سے جنت تک کا سفر
3
ماہ صفر کے حوالے سے بدشگونی، نحوست یا کسی قسم کی توہم پرستی بالکل بے بنیاد ہیں اور اسلامی تعلیمات میں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ اسلام میں اللہ پر توکل اور نیک اعمال پر یقین رکھنے کو ترجیح دی گئی ہے، نہ کہ نجومیوں، جادو ٹونے یا خرافات پر۔ ماہ صفر یا کسی اور مہینے کو بدقسمتی یا نحوست سے جوڑنا غلط فہمی اور توہم پرستی ہے، جس سے انسان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے، اللہ کی رضا کے لیے دعا کرے، اور کسی بھی طرح کی بدشگونی یا جادو ٹونے پر یقین نہ کرے۔
مزید پڑھیںماہ صفر بد شگونیوں نحوستوں نجومیوں اور جادو ٹونے کا رد
4
جنت وہ مقام ہے جہاں نہ غم ہے، نہ تھکن، نہ کوئی دکھ — صرف راحت، سکون اور رب کی رحمت۔وہاں کے باغات ہمیشہ ہرے بھرے، دریا دودھ و شہد کے بہتے ہیں، اور فضا میں خوشبو بسی ہوتی ہے۔جنت کی بہاریں ان خوش نصیبوں کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا میں ایمان، صبر اور نیکی کا راستہ اختیار کیا۔اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنے نیک بندوں کے لیے انعام بنایا ہے، جہاں ابدی خوشیاں اور رب کی قربت حاصل ہوگی۔
مزید پڑھیںجنت کی بہاریں
5
6
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (لوگو!) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد ال نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بخوبی جاننے والا ہے۔ اللہ تعالی نے سب انبیاء کرام سے نبی ﷺ کی ختم نبوت اور آپ پر بحیثیت آخری نبی ایمان لانے کا عہد لیا
مزید پڑھیںختم نبوت پر جان بھی قربان ہے
7
وَحَاقَ بِالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ  اور خود فرعونیوں پر سخت عذاب آپڑا۔ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ  وہ صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہو گی (حکم ہو گا) فرعونیوں کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔ وضاحت: آل فرعون کو اس وقت عذاب ہو رہا ہے اور وہ قبروں میں ہیں اسی آیت میں ہے کہ قیامت کا عذاب اور بھی سخت ہے۔
مزید پڑھیںإثبات عذاب القبر
8
إِنَّ اللهَ يُدْفِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَانٍ كَفُورٍ ) بے شک اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے دشمنوں کو ہٹا دے گا، اللہ کسی دغاباز دو نا شکر گزار کو پسند نہیں کرتا ۔ أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ ) جن سے کافر لڑتے ہیں انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے ۔“ وضاحت: مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا تھا۔ مدینہ ہجرت ہوئی تو پھر بھی کفار مکہ بار بار جنگیں کرنے آتے رہے۔ ان آیات میں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کے ارادے خاک میں ملادے گا اور ساتھ مسلمانوں کو جنگ کی اور بدلہ لینے کی اجازت دے دی۔
مزید پڑھیںنعرہ تکبیر اللّٰہ اکبر
9
یہ کائنات حق و باطل اور ایمان و کفر کی بنا پر تقسیم ہے، اس کے علاوہ کوئی تقسیم نہیں۔ روز اول سے ہی حق و باطل، روح و بدن، ایمان اور کفر کا معرکہ شروع ہے۔ جس کی بنیاد پر حزب اللہ اور حزب الشیطان دو گروہ ہیں، ایک رحمان بندوں کی جماعت ہے اور دوسری طرف شیطان کی…
مزید پڑھیںنورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
10
انسانی زندگی نمی و خوشی ، آسانی اور تنگی کے درمیان گزر رہی ہے، دنیا دار الامتحان ہے، جس میں ہر شخص آزمائش سے گزر رہا ہے، اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آزمائشیں کیوں آتیں ہیں؟ اور آزمائش کے وقت انسان کا رویہ کیا ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں آزمائش کے کئی اسباب ہیں، مثلاً: ایمان کی…
مزید پڑھیںآزمائش، رحمت یا زحمت،اور اس کے زندگی پر اثرات