21
جنت وہ مقام ہے جہاں نہ غم ہے، نہ تھکن، نہ کوئی دکھ — صرف راحت، سکون اور رب کی رحمت۔وہاں کے باغات ہمیشہ ہرے بھرے، دریا دودھ و شہد کے بہتے ہیں، اور فضا میں خوشبو بسی ہوتی ہے۔جنت کی بہاریں ان خوش نصیبوں کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا میں ایمان، صبر اور نیکی کا راستہ اختیار کیا۔اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنے نیک بندوں کے لیے انعام بنایا ہے، جہاں ابدی خوشیاں اور رب کی قربت حاصل ہوگی۔
مزید پڑھیںجنت کی بہاریں
22
والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، جن کی خدمت میں ہی انسان کی کامیابی اور برکت چھپی ہے۔ماں کی محبت جنت کی خوشبو رکھتی ہے اور باپ کی شفقت زندگی کا سہارا ہے۔اسلام نے والدین کے احترام کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اور ان کی نافرمانی کو سخت گناہ بتایا ہے۔جو اولاد اپنے والدین کی خدمت اور دعا حاصل کرتی ہے، اس کی زندگی سکون، رحمت اور کامیابی سے بھر جاتی ہے۔
مزید پڑھیںوالدین کا شان مقام اور ادب و احترام
23
دنیا کی چمک دمک اور ظاہری آسائشیں انسان کو فریب میں مبتلا کر دیتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی وقعت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اگر دنیا کی اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت ہوتی، تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔”یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت میں نہیں بلکہ ایمان، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری میں ہے۔دنیا کی محبت دل سے نکال کر جب بندہ اللہ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے تو وہ حقیقی سکون پا لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا کو عارضی سمجھ کر اپنی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی بنائیں۔
مزید پڑھیںدنیا کی حیثیت مچھر کے پر جتنی بھی نہیں
24
25
26
27
اسلام ہمیں صرف نیکی کرنے کا نہیں بلکہ نیکی کو ضائع ہونے سے بچانے کا بھی درس دیتا ہے۔ بعض اوقات انسان بہت سے نیک اعمال کرتا ہے لیکن ان کے ساتھ ریاکاری، تکبر، حسد، یا دوسروں کو ایذا دینے جیسے گناہوں کی آمیزش اس کے تمام اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو "خاسرین” یعنی نقصان اٹھانے والے قرار دیا ہے، جو دنیا میں محنت کرتے ہیں مگر آخرت میں ان کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔عمل کی قبولیت کا دار و مدار اخلاص اور تقویٰ پر ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں اور اپنے دل کو ریا، کبر اور حسد سے پاک رکھیں تاکہ ہمارے اعمال بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوں اور خسارے سے محفوظ رہیں۔
مزید پڑھیںوہ اعمال جن میں خسارہ اور عملوں کی بربادی ہے
28
29
30
شعبان میں کثرت سے روزوں کا بیان : صحیح مسلم حدیث نمبر 1156 / 2719 میں ہے: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَن صِيَامٍ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِن شَهْرٍ فَطْ ، أَكْثَرَ مِن صِيَامِهِ مِن شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعَبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا. حضرت عائشہ ان سے نبی اکرم علی ٹیم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا : آپ روزے رکھتے تھے حتی کہ ہم کہتے : آپ روزے پہ روزے رکھتے جا رہے ہیں۔ اور آپ افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کر دیتے حتی کہ ہم کہتے : آپ مسلسل افطار کر رہے ہیں، کہا: جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے ہوں، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔
مزید پڑھیںماہ شعبان