1
نیا سال آنا دراصل خوشی کا نہیں بلکہ سوچ اور خود احتسابی کا پیغام ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال اور کم ہو جاتا ہے۔ وقت وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا، اس لیے عقل مند وہی ہے جو ہر نئے سال کو اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی نیک اعمال، تقویٰ اور اللہ کی رضا میں ہے۔ جو شخص گزرے ہوئے وقت سے سبق لے کر آنے والے دنوں کو بہتر بنا لے، وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے۔
مزید پڑھیںنیا سال عمر ایک سال اور کم ہو گئی
2
آیت "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی ہدایت اور بعثت کو تمام انسانیت اور مخلوقات کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق، اور سیرت ہر دل میں رحمت، ہدایت اور سکون لانے کا ذریعہ ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی شفقت، انصاف، صبر اور محبت کا مظہر ہے، اور اسی وجہ سے آپ کی رسالت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے لیے رحمت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی اتباع اور تعلیمات پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں برکت اور ہدایت کا باعث ہے۔
مزید پڑھیںوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
3
آیت "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی شان و مرتبہ کو بلند فرمایا ہے اور دنیا و آخرت میں آپ کا ذکر بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی عظمت اور مقام نہ صرف مخلوق میں بلند ہے بلکہ اللہ کی ذات کے نزدیک بھی آپ کی یاد اور شان ہمیشہ بلند رہے گی۔ ہمیں اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق اور سیرت کو اپنانا ہر مومن کے لیے باعث عزت اور برکت ہے، کیونکہ آپ کا ذکر اور مقام صرف عبادت، اتباع اور محبت کے ذریعے ہی ہمارے دلوں میں بھی بلند ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںورفعنا لك ذكرك
4
آیت "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کی عظمت کو بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ بلند ترین، کامل اور بے مثال کردار کے حامل ہیں۔ آپ کا حلم، صبر، شفقت، عدل، تواضع، صدق، امانت اور عفو و درگزر وہ اوصاف تھے جن کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی اعلیٰ اخلاق میں ہے اور مومن کی خوبصورتی اس کے کردار سے پہچانی جاتی ہے، اس لیے جو شخص نبی ﷺ کے اخلاق کو اپناتا ہے وہ اللہ کی قربت اور لوگوں کی محبت دونوں پاتا ہے۔
مزید پڑھیںوَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيم
5
6
مومن کا مرنے کے بعد کا سفر اللہ کی قدرت اور رحمت کا روشن مظہر ہے۔ جیسے ہی مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس کی روح قبر کی جانب روانہ ہوتی ہے، جہاں اسے اس کے اعمال کے مطابق سکون یا سختی محسوس ہوتی ہے۔ مومن کی قبر میں راحت اور نور ہوتا ہے، اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور اپنے اچھے اعمال کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ پھر اس کا راستہ جنت کی جانب کھلتا ہے، جہاں اللہ کی رضا اور نعمتیں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اس پورے سفر میں مومن کے ایمان، نیک اعمال اور صبر کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے، جو اسے جنت کی حلاوت اور امن تک پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیںمومن کا مرنے سے جنت تک کا سفر
7
اسلام میں نبی کریم ﷺ کے معجزات اور نشانیوں کا بڑا مقام ہے، جنہوں نے لوگوں کو اللہ کی قدرت اور حقانیت کا یقین دلانے کے لیے ظاہر کیے۔ ان میں چاند کے دو ٹکڑوں کا واقعہ بھی شامل ہے، جو ایک عظیم نبوی کرامت کے طور پر مشہور ہے۔ یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر محیط ہے اور نبی ﷺ کی صداقت کی علامت ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معجزات کو ایمان کی بنیاد کے طور پر سمجھے، ان میں شک نہ کرے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرے، کیونکہ یہ کرامات اللہ کی قدرت اور نبی ﷺ کی رسالت کی نشانی ہیں۔
مزید پڑھیںمعجزات نشانیاں اور چاند کے دو ٹکڑے
8
ماہ صفر کے حوالے سے بدشگونی، نحوست یا کسی قسم کی توہم پرستی بالکل بے بنیاد ہیں اور اسلامی تعلیمات میں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ اسلام میں اللہ پر توکل اور نیک اعمال پر یقین رکھنے کو ترجیح دی گئی ہے، نہ کہ نجومیوں، جادو ٹونے یا خرافات پر۔ ماہ صفر یا کسی اور مہینے کو بدقسمتی یا نحوست سے جوڑنا غلط فہمی اور توہم پرستی ہے، جس سے انسان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے، اللہ کی رضا کے لیے دعا کرے، اور کسی بھی طرح کی بدشگونی یا جادو ٹونے پر یقین نہ کرے۔
مزید پڑھیںماہ صفر بد شگونیوں نحوستوں نجومیوں اور جادو ٹونے کا رد
9
“لیس منّا” یعنی “وہ ہم میں سے نہیں” نبی کریم ﷺ کی اُن سخت مگر حکیمانہ تنبیہوں میں سے ہے جن کے ذریعے آپ ﷺ نے مسلمانوں کو غلط رویّوں اور تباہ کن اخلاق سے بچایا۔ یہ الفاظ اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ جس شخص میں اسلامی کردار اور اخلاق کی بنیادی خوبیاں نہ ہوں، وہ عملی طور پر اُمت کے اصل مزاج سے دور جا رہا ہے۔ چاہے وہ دھوکہ دہی ہو، وعدہ خلافی، جھوٹ، بدسلوکی یا دوسروں کو نقصان پہنچانا—ایسے اعمال انسان کو اُس بلند معیار سے ہٹا دیتے ہیں جس کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی۔ “لیس منّا” کا مقصد کسی کو امت سے خارج کرنا نہیں بلکہ اس بات پر توجہ دلانا ہے کہ مسلمان کا کردار ایسا ہونا چاہیے جو رحمت، سچائی اور پاکیزگی کا آئینہ ہو۔
مزید پڑھیںليس منا . وہ ہم میں سے نہیں
10
اسلام میں عقیدۂ توحید بنیادی اساس ہے، اور ہر وہ نظریہ جو اللہ کی وحدانیت سے ہٹ کر ہو، اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآن کے مطابق اللہ ایک ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اُس جیسا کوئی ہے؛ اسی لیے مسلمان تثلیث کے تصور کو دین کے اصولِ توحید کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اسلام میں عبادت صرف اللہ کے لیے خاص کی گئی ہے، اسی لیے مسلمان ایسے عقائد سے دور رہنے کی تعلیم پاتے ہیں جو وحدانیت کے تصور کے خلاف ہوں۔ مسلمانوں کے نزدیک ایمان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ توحید کو خالص رکھا جائے اور دین کے اصل پیغام پر قائم رہا جائے۔
مزید پڑھیںکرسمَس اور تثلیث کفریہ عقیدہ ہے